Jul ۱۷, ۲۰۲۲ ۱۴:۲۴ Asia/Tehran
  • امریکی صدر کے دورہ ریاض پر یمن کا ردعمل

یمن کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے دورے کا مقصد خطے میں غاصب صیہونی حکومت کی تقویت اور اس کے اثرورسوخ کی توسیع قرار دیا ہے۔

المسیرہ ٹی وی کے مطابق یمن کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مغربی ایشیا کے دورے کے بارے میں ایک بیان جاری کرکے، یمنی عوام کے خلاف جارجیت اوران کا محاصرہ جاری رہنے کے نتائج کی بابت سخت انتباہ دیا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امت اسلامی میں بدامنی، اورجنگ و خونریزی امریکی منصوبے کا حصہ ہے ۔

یمنی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی دنیا میں جنگ وخونریزی کے منصوبے کےمخالفین کو امریکا ، دشمن قرار دیتا ہے اورصیہونی حکومت کے ساتھ روابط کی استواری کے لئے اسلامی حکومتوں کو ترغیب دلارہاہے۔

یمنی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی عوام کے مصائب و آلام کے لئے براہ راست امریکا جواب دہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن، سعودی عرب کے ساتھ تجارت بڑھانے اور اس سے باج وصول کرنا چاہتے ہیں اور خود کو امن پسند ظاہر کرتے ہیں ۔

یمنی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ بائیڈن کی پالیسیاں سب پر عیاں ہیں اور وہ کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ پوری دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ یمن کے خلاف ہمہ گیر، ابلاغیاتی، تشہیراتی ،انٹلیجنس اور وحشیانہ فوجی جارحیت دراصل امریکی جارحیت ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جارح اتحاد کے وحشیانہ اقدامات ، ظالمانہ محاصرہ ، یمنی عوام پر بھوک مری مسلط کرنا، وسیع تباہی اورقتل عام سے پوری طرح ثابت ہوتا ہے کہ یہ جنگ مکمل طورپر امریکی جنگ ہے۔

یمنی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت بے نقاب ہوچکی ہے ،اس کا اعتبار ختم ہوچکا ہے اور اب وہ یمنی عوام اور امت اسلامیہ کے بارے میں غلط افواہیں نہیں پھیلاسکتی ۔

یمن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مظلوم فلسطینی عوام کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین اسلامی دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے اور امریکی حکام کی سرگرمیاں فلسطینی قوم سمیت اس خطے کی سبھی اقوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کی مترادف ہیں ۔

یمن کی اعلی سیاسی کونسل نے بھی ایک بیان جاری کرکے جو بائیڈن کے دورے اور جدہ میں جنگ یمن کے تعلق سے ان کی بیان کی مذت کی ہے۔

یمن کی اعلی سیاسی کونسل نے کہا کہ نام نہاد جنگ بندی کی توسیع کے بارے میں جو باتیں کہی جارہی ہیں ، وہ قابل مذمت ہیں کیونکہ یہ ایسی جنگ بندی ہے جس کی کسی بھی شق کی جارح اتحاد پابندی نہیں کررہا ہے ، یہ ایک مایوس کن تجربہ ہے جس کی مستقبل میں تکرار نہیں ہوسکتی۔

یمن کی اعلی سیاسی کونسل نے کہا ہے کہ یمن کے امور میں بیرونی مداخلت امن و آشتی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ٹیگس