تل ابیب میں نیتن یاہو کابینہ کے خلاف وسیع مظاہرے، استعفے کا مطالبہ
صیہونی حکومت کےمرکز تل ابیب میں بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کے خلاف وسیع مظاہرے ہوئے-
سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطین کے انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے شرکاء نے اعلان کیا کہ جب تک نتنیاہو کی کابینہ مستعفی نہیں ہوتی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس سے قبل صیہونی میڈیا نے حالیہ دنوں میں تل ابیب اور مقبوضہ علاقوں کے بعض دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کی خبر دی تھی۔
مظاہرین سات اکتوبر کی ناکامیوں سے متلعق تحقیقات انجام دینے والی ایک سرکاری کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے-
ہمیں فالو کریں:
Facebook, X, instagram, tiktok : Follow us
فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب بینیامیں نیتن یاہو کی کابینہ پر، سات اکتوبر دوہزار تیئس کو ہونے والے حملے کی شفافیت اور جواب دہی کے لیے ملکی اور غیر ملکی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
فلسطینی ذرائع ابلاغ ان مظاہروں کو صہیونیوں کے مختلف طبقات کے درمیان گہرے شگاف اور سلامتی کے بحران پر قابو پانے میں صیہونی حکومت کی ناکامی کی علامت قرار دے رہے ہیں-
واضح رہے کہ صیہونی حکومت نے سات اکتوبر دوہزارتیئیس کو، تحریک حماس کو ختم کرنے اور غزہ میں حماس کے ہاتھوں قیدی بنائے گئے صیہونی قیدیوں کی واپسی جیسے دو اہم مقصد کے ساتھ غزہ کی پٹی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ، لیکن وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اسے قیدیوں کے تبادلے کے لیے تحریک حماس کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا -