اسرائيلی ٹی وی چینل: اسرائیل نے ایران کے حملے کے خوف سے پوتین کا دامن تھاما
اسرائیلی ٹی وی چینل "کان" نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے خوف سے روسی صدر ولادیمیر پوتین کی پناہ میں گیا ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: صہیونی ریڈیو اور ٹیلی ویژن نیٹ ورک "کان" کے نامہ نگار نے منگل کی شام بتایا ہے کہ اس کے پاس ایسی معلومات ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم "بنیامن نیتن یاہو" نے ذاتی طور پر روسی صدر "ولادیمیر پوتین" سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ تہران کو یقین دلائیں کہ اسرائیل ، ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا ارادہ نہيں رکھتا۔
اس اسرائيلی ٹی وی چینل کے مطابق نیتن یاہو نے ذاتی طور پر پوتین سے درخواست کی کہ وہ ایران کو یقین دلائیں کہ "ہماری آپ پر حملہ کرنے کی کوئی نیت نہیں ہے"۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اس پیغام کو تہران تک پہنچانے کے لیے روسی صدر کا انتخاب اس لئے کیا کیونکہ اسرائیل کو یہ تشویش ہے کہ ایران اسرائیل کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔
اسرائيل کے کان ٹیلی ویژن چینل نے زور دیا: "باخبر سفارتی ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ یہ پیغام بنیامن نیتن یاہو اور ولادیمیر پوتین کے درمیان متعدد بار کی ٹیلی فونی بات چیت کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔"
کان نیٹ ٹی وی چینل کے نامہ نگار نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر بھی لکھا ہے: "یہ ٹیلی فونی بات چیت تل ابیب اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد ہوئی۔"
انہوں نے لکھا: "اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے آج بھی پارلیمنٹ میں اعلان کیا ہے کہ ہم نے ایران کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل پر کسی بھی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔"
اس نامہ نگار کے مطابق، "تاہم، اسرائیل اب بھی ایران میں کسی غلط فہمی سے خوفزدہ ہے جس کے نتیجے میں وہ اسرائیل پر حملہ کرنے میں پیش قدمی کر سکتا ہے۔"
یہی وجہ تھی کہ اسرائیل کے سیاسی اور سیکورٹی شعبوں نے ایران کے سلسلے میں متعدد اجلاس منعقد کیے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اس اسرائیلی نامہ نگار نے یہ بھی بتایا ہے کہ: "موجودہ نگرانی اور سینسرشپ کی وجہ سے تمام پس پردہ معلومات شائع کرنا ممکن نہیں ہے لیکن ہم یہ ضرور بتا سکتے ہیں کہ اسرائیل نے ایرانیوں کو قائل کرنے کی بڑی کوششیں کی ہیں کہ اس وقت تل ابیب تصادم کا خواہاں بالکل نہيں ہے۔"