اسرائیل سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ریکارڈ مہاجرت
تل ابیب یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق حال ہی میں اسرائیل سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ریکارڈ مہاجرت ہوئی ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق غاصب اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ریکارڈ تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اس مقبوضہ سرزمین سے کوچ کر رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان 2 لاکھ 68 ہزار سے زائد اسرائیلی کم از کم تین ماہ کے لیے بیرونِ ملک گئے، جبکہ مہاجرت کرنے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر، ٹیکنالوجی ماہرین اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کا تناسب نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد پیدا ہونے والےسیکورٹی، سیاسی اور سماجی بحران نے اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے، جس کے طویل مدت میں اسرائیل کی معیشت، صحت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل کے آزاد سیاسی مبصر اور سابق یونیورسٹی پروفیسر اوری گولڈ برگ نے خبر رساں ایجنسی اناڈولو کو بتایا کہ یہ رجحان اسرائیل میں استحکام کے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ملک بکھر رہا ہے۔ اس میں استحکام نہیں ہے۔‘‘ گولڈ برگ کے مطابق ملک چھوڑنے والے بہت سے افراد ایسے ماحول کی تلاش میں ہیں جہاں استحکام، مؤثر سرکاری خدمات اور اس بات کی ضمانت موجود ہو کہ عوامی ادارے اطمینان بخش انداز میں کام کریں گے۔ ان افراد میں نسبتاً لبرل خیالات رکھنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہے۔
گولڈ برگ نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ موجودہ ہجرت کی لہر فوری حالات بہتر ہونے کی صورت میں خود بخود ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ محض ایک عارضی لہر ہے اور نہ ہی مجھے لگتا ہے کہ سیاسی اور سکیورٹی حالات کو اتنی آسانی سے مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ مجھے یقین نہیں کہ اسرائیل پہلے جیسی صورت حال میں واپس جاسکتا ہے۔‘‘
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel