لاطینی امریکی ممالک کی طرف سے وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی جارحیت اور صدر مادورو کے اغوا کی سخت مذمت
لاطینی امریکہ کے مختلف ملکوں نے وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی جارحیت اور صدر مادورو کے اغوا کی سخت مذمت کی ہے۔
سحرنیوز/دنیا: میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق چلی، کولمبیا اور کیوبا کے رہنماؤں نے وینزویلا پر امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری طورپر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کولمبیا کے صدر گوٹیریز پیٹرو نے لاطینی امریکہ کے ملکوں کی تنظیم او اے ایس اور اقوام متحد سے ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
چلی کے صدر گیبریل بورک نے بھی وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی جارحیت پرسخت مذمت اور تشویش کا اظہار کیا۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے وینزویلا پر امریکی حملے کو مجرمانہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک وینزویلا پر "مجرمانہ" امریکی حملے کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے اس کھلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری سے فوری ضروری اقدام کا مطالبہ بھی کیا۔
گیانا کے صدر عرفان علی نے، جو ہمسایہ ملک وینزویلا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری علاقائی تنازع میں الجھے ہوئے ہیں، کہا کہ ان کا ملک "صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی فورسز کو صورت حال کے مطابق پوری طرح چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔
ہمیں فولو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channe
یاد رہے کہ امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہ راست حکم پر امریکی افواج نے سنیچر کی شام کو وینزویلا پر زبردست فوجی حملہ کیا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کر لیا۔ ٹرمپ نے اس حملے کے بعد اعلان کیا ہے کہ انہوں نے خود براہ راست وینزویلا کے خلاف "بڑے حملے" اور نکولس مادورو کو اغوا کرنے کا حکم دیا تھا۔ صدر نکولس مادورو کو اغوا کرکے امریکہ منتقل کردیا ہے اور امریکی حکومت نے ان پر نیویارک کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔