Jan ۰۳, ۲۰۲۶ ۱۲:۱۷ Asia/Tehran
  • ہندوستان:

ہندوستان میں انڈین نیشنل لوک دل کے رہنما ابھے چوٹالا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان میں بھی نیپال اور بنگلہ دیش جیسا احتجاج ہونا چاہئے، جس کے بعد ایک سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔

سحرنیوز/ہندوستان: ہندوستانی میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق انڈین نیشنل لوک دل کے قومی صدر ابھے سنگھ چوٹالا نے ایک متنازعہ بیان دے کر سیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بھی سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرز پر نوجوانوں کی قیادت میں عوامی تحریکیں چلنی چاہئیں تاکہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہٹایا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’جس طرح سری لنکا میں ہوا، جس طرح بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے حکومت کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا اور جس طرح نیپال میں نوجوانوں نے حکومت کو اقتدار سے باہر کیا، ویسے ہی طریقے ہندوستان میں بھی اپنانے ہوں گے تاکہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے باہر کیا جا سکے۔‘‘

ان کے اس بیان کے وائرل ہونے کے بعد، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان شہزاد پوناوالا نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اسے آئینی نظام اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ قرار دیا۔

شہزاد پونا والا

 

شہزاد پوناوالا نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنما وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کی آڑ میں ملک اور آئین مخالف ذہنیت اپنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ لوگ صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے جمہوریت اور ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین کے خلاف جانے کو تیار ہیں۔ یہ بیانات ہندوستان کے جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔‘‘

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

ریاست ہریانہ کے کابینی وزیر کرشن بیدی نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ابھے چوٹالا کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے چوٹالا خاندان کی طویل سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات جمہوری اقدار سے متصادم ہیں۔ انہوں نے سابق نائب وزیراعظم چودھری دیوی لال کی وراثت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری جدوجہد کا احترام کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے کمزور کرنے کی بات کی جائے۔

 

ٹیگس