Jan ۲۷, ۲۰۲۶ ۱۵:۲۲ Asia/Tehran
  • ہندوستان: دہلی اور لکھنؤ میں یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف طلبا کا احتجاج

ہندوستان کے دارالحکومت دہلی اور لکھنؤ میں یو جی سی، یونیورسٹی گرانٹس گمیشن، کے نئے ضوابط کے خلاف طلبا نے احتجاج کیا ہے۔

سحرنیوز/ہندوستان: ہندوستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے ضوابط 2026‘ کے نفاذ کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سمیت کئی تعلیمی اداروں میں طلبا سڑکوں پر آگئے۔ طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط یکطرفہ ہیں اور ان سے کیمپس میں مزید تقسیم اور بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔

لکھنؤ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں طلبا نے نئے ضوابط کو ’سیاہ قانون‘ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ یہ قواعد و ضوابط عام زمرے کے طلبا کے خلاف امتیازی نوعیت رکھتے ہیں اور جھوٹے الزامات کے ذریعے اساتذہ اور طلبا کو نشانہ بنائے جانے کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ آج اتر پردیش کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں اور آئندہ دنوں میں مزید مظاہروں کا اعلان کیا گیا۔

دہلی میں بھی مختلف طلبا گروپوں نے یو جی سی کے صدر دفتر کے باہر جمع ہو کر ضوابط کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر طلبا سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں سامنے آکر ان ضوابط کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

دریں اثنا اس معاملے نے قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی دو عرضیاں داخل کی جا چکی ہیں، جن میں 13 جنوری کو نوٹیفائی کیے گئے ان ضوابط کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ یو جی سی کے یہ قواعد آئینی اصولوں اور فطری انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہیں۔

یو جی سی کے مطابق ان ضوابط کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیاز سے نمٹنے کے لیے مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔ قواعد کے تحت مساوی مواقع مراکز، ایکویٹی کمیٹیاں اور چوبیس گھنٹے فعال شکایتی ہیلپ لائن قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ خاص طور پر درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلبا کو تحفظ مل سکے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ضوابط میں ملزم افراد کے لیے واضح حفاظتی انتظامات درج نہیں کیے گئے ہیں جس سے قصوروار سمجھے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قواعد پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اداروں کی منظوری منسوخ ہونے یا فنڈنگ روکنے جیسے سخت اقدامات تعلیمی خودمختاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔

 

ٹیگس