Nov ۰۶, ۲۰۲۳ ۱۷:۳۶ Asia/Tehran
  • غزہ جنگ کی کمان امریکا کے ہاتھ میں ہے: رہبرانقلاب اسلامی

رہبرانقلاب اسلامی نے غزہ کے عوام کا قتل عام بند کرانے کی غرض سے امریکا اور صیہونی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھائے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سحر نیوز/ ایران: رہبرانقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی سے ملاقات میں غزہ میں نہتے فلسطینیوں کا قتل عام بند کرانےکے لئے امریکا اور صیہونی حکومت پر عالم اسلام کے سیاسی دباؤ میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ عراق علاقے کے ایک اہم ملک کی حیثيت سے اس سلسلے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے اورعرب دنیا نیز عالم اسلام میں ایک نئی لائن وجود میں لاسکتا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے غزہ کی رقت آمیز صورتحال، اور صیہونیوں کے جرائم اور مظالم سے پوری دنیا کے آزاد منش انسانوں کے دلوں کے داغدار ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ صیہونی حکومت کے حملوں کے پہلے دن سے ہی تمام ثبوت و شواہد یہ بتارہے تھے کہ اس جنگ کی کمان امریکا کے ہاتھ میں ہے اور جیسے جیسے غزہ پر حملوں کے دن گذر رہے ہيں اس جنگ میں امریکا کی براہ راست شمولیت، پہلے سے بھی زیادہ واضح ہوتی چلی جارہی ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر امریکا کی اسلحہ جاتی اور سیاسی مدد نہ ہوتی تو صیہونی حکومت اس جنگ کو جاری نہيں رکھ سکتی تھی۔

آپ نے فرمایا کہ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہيں ہے کہ صیہونیوں کے جرائم میں امریکا برابر کا شریک ہے۔آپ نے فرمایا کہ غزہ میں تمام تر قتل عام کے باوجود صیہونی حکومت ابھی تک اپنی ذلت آمیز شکست پر پردہ نہيں ڈال سکی ہے اور آئندہ بھی وہ اپنی شکست کو نہيں چھپا سکے گی ۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران اور عراق ایک دوسرے کے تعاون سے غزہ میں جنگ بند کرانے کے لئے موثر کردار ادا کرسکتے ہیں آپ نے غزہ اور فلسطین کی حمایت میں عراقی حکومت اور عوام کے کھلے موقف کی تعریف کی۔

ٹیگس