Jan ۰۲, ۲۰۲۶ ۰۰:۰۰ Asia/Tehran
  • شہید قاسم سلیمانی کی چھٹی برسی: مصلائے امام خمینی میں ٹھاٹے مارتا جذباتوں کا سمندر، صدر پزشکیان اور زینب سلیمانی کا خطاب+ ویڈیو

شہید جنرل قاسم سلیمانی کی چھٹی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں اعلی ایرانی سیاسی اور دفاعی شخصیات سمیت عوام، نوجوانوں اور مختلف طبقات نے بھرپور شرکت کر کے شہید سلیمانی کو خراج تحسین پیش کیا۔

سحرنیوز/ایران: تفصیلات کے مطابق، تہران کے مصلائے امام خمینی میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کی چھٹی برسی کی مناسبت سے شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ نماز مغربین کے بعد منعقدہ اس تقریب میں صدر پزشکیان اور دیگر اعلی سیاسی اور دفاعی حکام کے علاوہ زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والوں نے بھرپور شرکت کی اور یادگار تقریب کو یادگار بنایا۔

مصلے کا ماحول بھرپور جذبے اور احترام سے معمور تھا، جہاں لوگ مختلف دروازوں سے داخل ہو کر مرکزی ہال میں پہنچے۔ اس شاندار اجتماع سے یہ بات واضح ہوئی کہ چھے سال گزر جانے کے باوجود شہید قاسم سلیمانی کا نام اور ان کا مکتب عوام کے دلوں میں زندہ ہے، اور خاص طور پر نوجوان نسل میں ان کی شخصیت کی اہمیت برقرار ہے۔

اس تقریب میں صدر مملکت مسعود پزشکیان، حجت الاسلام محسنی اژه‌ای، سپاہ قدس کے سربراہ جنرل اسماعیل قاآنی، سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ جنرل احمد وحیدی، جنرل شیرازی، جنرل ایرج مسجدی، جنرل حسن زادہ، حجت الاسلام شیرازی، شہید سلیمانی کے اہل خانہ اور مقاومت کے حامی ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمان بھی شریک ہوئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہید جنرل سلیمانی کو اخلاق، صداقت، شجاعت، حق پرستی اور مظلوموں کے عملی دفاع کا بے مثال نمونہ قرار دیا اور کہا کہ آج ہم شہید سلیمانی کے راستے پر متحد ہیں۔ شہید قاسم سلیمانی کسی سیاسی جماعت، گروہ یا فریق کی جانب سے تعریف میں خوش نہیں تھے۔ وہ امام خمینی کے راستے کے پیروکار اور رہبر معظم انقلاب کے مکمل مطیع تھے اور بغیر کسی دعوی، نام یا شہرت کے ہر موقع پر حاضر رہتے۔

صدر پزشکیان نے عالمی سطح پر شہید سلیمانی کی حیثیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم شہید نہ صرف ایران میں بلکہ دنیا بھر میں مزاحمت اور انسانیت کے دفاع کا نمونہ بن گئے؛ یہاں تک کہ امریکہ کے اندر بھی ان کی شہادت کے بعد یادگار تقریبات منعقد کی گئیں۔

انہوں نے نہج البلاغہ میں حضرت علی (ع) کے اقوال کے حوالے سے طاقتور ممالک کی سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ اور صہیونی حکومت جھوٹی جمہوریت اور آزادی کے دعوے کے پیچھے چھپ کر ریاستی دہشت گردی پر عمل پیرا ہیں، حریت پسند دانشوروں اور کمانڈروں کو قتل کرتے ہیں، جبکہ خود دنیا کے اصل مجرم ہیں۔ شہید جنرل سلیمانی، شہید ابومہدی المہندس، دانشوروں اور دیگر کمانڈروں کی شہادت ان جرائم کی واضح شہادت ہے اور ایرانی قوم پوری طاقت کے ساتھ اس راستے کو جاری رکھے گی۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی نے تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید سلیمانی جیسے عظیم شہداء نے بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے اسلامی محاذ کو ترقی دی اور آج بھی ان کی پاکیزہ ارواح اس راستے کی رہنمائی کر رہی ہیں، جو اللہ کے فضل سے بالآخر فتح پر منتج ہوگا۔ انہوں نے انقلابِ اسلامی کے طے شدہ سفر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب نے کامیابی کے بعد کے برسوں میں مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے مرحلہ وار فتح کا راستہ طے کیا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ جنرل احمد وحیدی

سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ جنرل احمد وحیدی نے تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی بلاک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی، پیش رفت اور استحکام کے راستے پر گامزن ہے، اور اسلامی جمہوریہ ایران پوری قوت کے ساتھ اس محاذ کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید جنرل حاج قاسم سلیمانی کا راستہ اور مکتب کبھی ترک نہیں کیا جائے گا، اور ہم پوری طاقت کے ساتھ اس عظیم شہید کے مشن اور نظریات کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر نے دشمنوں کی حالیہ دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات بزدلانہ ہیں، جو دشمنوں کے خوف اور کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔

شہید جنرل قاسم سلیمانی کی صاحبزادی زینب سلیمانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم حاج قاسم کا ذکر کرتے ہیں تو محض ایک عسکری کمانڈر کی بات نہیں کرتے، بلکہ ایک ایسی شخصیت کی بات کرتے ہیں جو سلامتی، قومی یکجہتی کے دفاع اور تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔ انہوں نے شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں عظیم مجاہدین ایک گہرے اور اسٹریٹجک رشتے کے ذریعے اخلاص، وفاداری اور ایران و عراق کی مشترکہ ایمانی وابستگی کی علامت بنے، اور ان کے نام استکبار کے خلاف مزاحمت اور استقامت سے ہمیشہ کے لیے جڑگئے ہیں۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

انہوں نے مقاومتی بلاک کے شہداء مخصوصا شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین، شہید اسماعیل ہنیہ اور شہید یحیی سنوار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ایک بار پھر دنیا کو مزاحمت کے راستے کی حقانیت اور اقوام کی عزت، وقار اور استقلال کے دفاع کی اہمیت یاد دلائی ہے۔

زینب سلیمانی نے حاج قاسم سلیمانی کی عوامی مقبولیت کی وجہ ان کے گہرے عوامی ربط کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حاج قاسم خود کو معاشرے کے اندر سے اٹھا ہوا فرد سمجھتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ کامیابیاں صرف عوام کی شراکت اور قربانیوں کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ شہداء کے خاندانوں، زخمیوں، جانبازوں اور محروم طبقات پر ان کی خصوصی توجہ ان کے مستقل رویے کا حصہ تھی، اور یہی اخلاص عوام کے دلوں میں ان کے لیے گہری محبت، اعتماد اور عقیدت کا باعث بنا۔

 

 

ٹیگس