ایران کی طرف سے ایٹمی معاملے میں لچک کے دعوے کی سخت تردید
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایٹمی معاملے میں ایران کی لچک کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔
سحرنیوز/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نیویارک میں ایرانی صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے دورۂ نیویارک کا ایک ہدف یہ تھا کہ جنگ میں ایران کی پوزیشن اور آبنائے ہرمز کے بارے میں حقائق دنیا والوں تک پہنچائے جائيں۔
انھوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے بعض شرائط کی تاکید فرمائی ہے اور آبنائے ہرمز کھُلنے کے لئے ان شرائط کی تکمیل ضروری ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ یہ شرائط امریکی فریق تک پہنچائی جائيں اور دیگر ممالک اور بین الاقوامی برادری بھی مطلع ہو کہ ایران کی شرائط مکمل طور پر منطقی اور منصفانہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی سمجھوتہ اور پُر امن راہ حل چاہتے ہیں تو ہم نے یہ راہ حل پیش کردی ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم نے اپنی سات نکاتی راہ حل قطری ثالث کے ذریعے امریکہ تک پہنچادی ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکی صدر نے جو کچھ کہا ہے اس کے باوجود ہم نے کہا کہ ہم ثالثین کے ذریعے امریکہ کے سرکاری جواب کے منتظر ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران کی شرائط کس طرح پوری کی جاتی ہیں۔
انھوں نے بتایا ہے کہ امید ہے کہ مقامی وقت کے مطابق منگل تک ہمیں امریکیوں کی جانب سے سرکاری جواب مل جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے ارنا کے نامہ نگار کے اس سوال کے جواب میں کہ جب تک امریکی جواب نہیں مل نہیں جاتا، اس وقت تک نیویارک میں رکیں گے یا تہران واپس ہوجائیں گے؟، کہا کہ میں چند گھنٹے بعد تہران روانہ ہوجاؤں گا اور قطری ثالثین کو جب بھی امریکی جواب ملے گا، وہ ہمیں پہنچائیں گے۔
انھوں نے ارنا کے نامہ نگار کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ بات صحیح ہے کہ ایران ایٹمی معا ملے میں لچک کے لئے تیار ہے؟ کہا کہ بالکل نہیں، یہ دعویٰ بالکل غلط ہے اور میں اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ میں صاف کہتا ہوں کہ ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہيں آئی ہے اور ابنائے ہرمز کھلنے کے لئے ہماری شرائط واضح ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر مسائل میں بھی کسی بھی قسم کی لچک کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel