ٹرمپ کو ایران کا سخت انتباہ
ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ان کے سامنے دو ہی راستے ہیں، یا شرافتمندانہ سمجھوتہ یا بڑی اسٹریٹیجک شکست۔
سحرنیو/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روزنامہ فائنینشل ٹائمز میں اپنے خصوصی کالم میں موجودہ بحران میں ایران کی دفاعی، انسدادی اور ڈپلومیٹک اسٹریٹیجی پر روشنی ڈالی ہے۔
انھوں نے اپنے اس مضمون میں، آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کے لئے ایران کی شرائط اور سات روزہ فارمولے کی تشریح کرتے ہوئے، مذاکرات کے دوران بمباری کے تلخ تجربے کا بھی ذکرکیا۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج کے کمزور ہوجانے کی خام خیالی کا نتیجہ، سینکڑوں ارب ڈالر کے نقصان اور زیادہ سنگین شکست کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔
سید عباس عراقچی نے اپنے اس کالم میں لکھا ہے کہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہمیں امریکی حکومت کے اس دعوے پر ہرگز اعتماد نہیں ہے کہ وہ ایران کے ساتھ صلح چاہتی ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ شواہد سب کے سامنے ہیں، جون 2025 اور فروری 2026 میں ایسی حالت میں ہم پر بمباری کی گئی کہ ہم تندہی کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے۔ اس کے علاوہ رواں سال کے جون میں، مفاہمت پر صدرایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ٹرمپ کے دستخط کے تھوڑے ہی دن بعد تیسری بار ہم پر حملہ کیا گیا۔ ہم امریکی صدر پر کیسے اعتماد کریں؟
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel