پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا دورۂ تہران
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i458140-پاکستان_سعودی_عرب_اور_ترکیہ_کے_اعلیٰ_حکام_کا_دورۂ_تہران
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰحکام کے تہران آنے کی خبر دی ہے۔ ایران اور دنیا کے 11 دیگر ممالک نے جوہری تنصیبات پر حملوں کو ممنوع اور پرامن مقاصد کے جوہری توانائی استعمال کو تمام ملکوں کا ناقابل تنسیخ حق قرار دیا ہے۔
(last modified 2026-10-26T08:39:46+00:00 )
Oct ۲۶, ۲۰۲۶ ۱۱:۵۴ Asia/Tehran
  • پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا دورۂ تہران

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰحکام کے تہران آنے کی خبر دی ہے۔ ایران اور دنیا کے 11 دیگر ممالک نے جوہری تنصیبات پر حملوں کو ممنوع اور پرامن مقاصد کے جوہری توانائی استعمال کو تمام ملکوں کا ناقابل تنسیخ حق قرار دیا ہے۔

سحرنیو/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے بتایا ہے کہ مذکورہ تینوں ملکوں کے اعلی حکام کے دورۂ تہران کا مقصد، میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات اور علاقے کے حالات کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کے ساتھ میٹنگ میں، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلیجنس چیف ابراہیم کالین شرکت کریں گے۔  

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے امریکا اور صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ میں ایرانی قوم اور مسلح افواج کی کامیابیوں اور جارحین کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی اندرونی اور ملکی توانائیوں پر مبنی ایران کی دفاعی حکمت عملی، قومی سلامتی کی ضمانت کی کامیاب مثال بن گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ علاقے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیادی اسٹریٹیجی یہ ہے کہ علاقائی سلامتی کے لئے علاقے کے ملکوں کا باہمی تعاون اور امریکی و صیہونی حکومتوں سمیت بیرونی طاقتوں کی  ہر قسم کی مداخلت کی مخالفت اور ان کا مقابلہ ضروری ہے۔

علی باقری نے ناجائز صیہونی حکومت کے کردار کو مغربی ایشیا میں ہر سطح پرسلامتی اور امن و استحکام کے منافی قرار دیا۔

 ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری نے کہا کہ مذکورہ تینوں ممالک (پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ) اسلامی جمہوریہ ایران کے کامیاب تجربے سے مؤثر استفادہ کرتے ہوئے، علاقائی ملکوں کی مشارکت سے علاقے میں امن و سلامتی قائم کرنے کی راہ میں مؤثر قدم اٹھاسکتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں:

Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok  whatsapp channel