Nov ۲۸, ۲۰۲۳ ۱۸:۲۹ Asia/Tehran
  • جولان کے پہاڑی علاقوں تک پہنچے روسی فوجی، اسرائیل کو دیا اہم پیغام

ترک میڈیا نے منگل کے روز مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں کے قریب روسی فوجیوں کی موجودگی اور صیہونی حکومت کو پیغام بھیجنے کی اطلاع دی ہے۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: فارس نیوز کے مطابق، بعض ترک خبر رساں ذرائع نے منگل کو جولان کی پہاڑیوں کے قریب روسی فوجیوں کی موجودگی اور اسرائیلی حکومت کو پیغام بھیجنے کی اطلاع دی ہے۔

ٹرکش نیوز پیپر کی ویب سائٹ کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل - حماس جنگ کے درمیان تل ابیب کو ایک خاص پیغام دے رہی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق روس کے آرٹی چینل پر مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر تعینات روسی فوجیوں کی ایک ویڈیو نشر کی گئی اور اس میں فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی کو دکھایا گیا ہے۔

مقبوضہ جولان کی پہاڑیاں شام کے القنیطرہ صوبے کا ایک حصہ ہیں۔ صیہونی حکومت نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اس علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور 1982 میں اس کا الحاق کر لیا۔ عالمی برادری نے کبھی بھی اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔

روسی فوجی دستے جنوبی شام کے علاقے میں شامی فوج کے ساتھ جولان کے علاقے اور مقبوضہ جولان سے ملحقہ علاقے میں موجود ہیں۔

روس ان سرکردہ ممالک میں سے ایک تھا جس نے اسرائیل سے غزہ کی نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔

روسی فوج کی طرف سے لی گئی یہ ویڈیو اسرائیل کو ایک پیغام دیتی ہے۔ اس ویڈیو میں جولان کی پہاڑیوں، روسی پرچم، روسی فوجیوں اور فوجی محاذ کو دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کا پیغام یہ ہے کہ روس کسی بھی وقت میدان میں آ سکتا ہے۔

دریں اثنا، اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ شام میں روس کی فوجی موجودگی جاری ہے اور وہ آسانی سے مقبوضہ فلسطین کی سرحد تک پہنچ سکتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی حکومت کے جنگی طیاروں نے شام میں دمشق کے ہوائی اڈے پر بمباری کی تھی جس کی روس نے شدید مذمت کی تھی۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ مقبوضہ جولان پر اسرائیل کی خود مختاری کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ حال ہی میں روسی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے کہا کہ ماسکو ایسے اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔

ٹیگس