Mar ۰۸, ۲۰۲۲ ۱۴:۲۶ Asia/Tehran
  • یوکرینی انٹیلی جینس اپنی ہی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنا چاہتی ہے، روس کا دعوی

روس یوکرین کی جنگ تیرہویں روز بھی جاری ہے ، اطلاعات ہیں کہ خارکیف اور یوکرینی دارالحکومت کیف کے آس پاس شدید لڑائی ہورہی ہے اس درمیان روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرینی انٹیلی جینس نے اپنے ہی ملک کی ایٹمی تنصیبات پر خودساختہ حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی انٹیلی جینس سروس، مسلح گروہوں کے ذریعے خارکیف شہر کے اطراف میں واقع ایٹمی تنصیبات پر حملوں کی سازش تیار کر رہی ہے۔

 روسی وزارت دفاع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہماری  مسلح افواج نے وینیتسا کے قریب واقع یوکرین فوج کے ایک ایئر بیس کو انتہائی اسمارٹ ہتھیاروں کےذریعے ناکارہ بنا دیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں جاری ہے جب نیٹو اور مغربی ملکوں نے اب تک یوکرین کو  رکینت دینے کے اپنے  وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔ مغربی ممالک روس یوکرین جنگ میں براہ راست  شریک نہیں ہورہے ہیں اور یوکرین کو اسلحے کی ترسیل نیز روس کے خلاف پابندیوں کے اعلان پر ہی اکتفا کیے ہوئے ہیں۔

 روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ روس اور یوکرین ایک قوم ہیں اور روسی فوجی در اصل اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی فوجی یوکرین میں نیو نازی ازم کا خاتمہ کرکے دم لیں گے کیونکہ بقول ان کے نیونازی عناصر عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

 دوسری جانب امریکی وزارت جنگ کے ایک عہدیدار نے روس کے مقابلے میں نیٹو اور اس کے اتحادیوں کے دفاع کے بہانے، ایندھن پہنچانے والے ہوائی جہازوں سمیت مزید ساز و سامان اور فوجی یورپ روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیوز ایجنسی فارس کے مطابق امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ مزید پانچ سو فاضل فوجیوں کو یورپ میں نیٹو کی تقویت کی غرض س روانہ کیا جارہا ہے۔ مذکورہ عہدیدار کے مطابق امریکہ ایندھن پہنچانے والے کے سی ایک سو پیتنس طیارے یونان بھیج رہا ہے جبکہ فضائی آپریشن کے ماہرین کی ٹیمیں پولینڈ اور رومانیہ روانہ کی جارہی ہیں۔

روس نے پچھلے چندماہ کے دوران کئی بار مشرقی یورپ میں نیٹو کی توسیع پسندی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے، امریکہ اور نیٹو کو سیکورٹی کی ضمانتوں کی فراہمی کے لیے تجاویز پیش کی تھی جنہیں مسترد کردیا گیا۔

یوکرین کی جانب سے نیٹو میں شمولیت کی دوبارہ درخواست اور مغربی ملکوں نے کئی ملین ڈالر کی امداد فراہم کیے جانے کے بعد روس نے چوبیس فروری سے مشرقی یوکرین کی دو جمہوریاؤں دونیسک اور لوہانسک کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی تھی جو تاحال جاری ہے۔

ٹیگس