اگر مغرب کو ایرانی عوام کی فکر ہے تو پابندیاں ہٹوائے: ممتاز برطانوی اسکالر
ایک ممتاز برطانوی اسکالر اور مصنف نے کہا ہے کہ اگر مغربی حکومتوں کو ایرانی عوام کی فکر ہے تو وہ ایران پر عائد پابندیاں ہٹوائيں۔
سحرنیوز/دنیا: ممتاز برطانوی اسکالر اور مصنف "فل بائن" نے اپنی ایک تازہ تحریر میں لکھا ہے کہ اگر مغربی حکومتوں کو واقعی ایرانی عوام کی اقتصادی حالت کی بابت تشویش لاحق ہے تو سیاسی سازشوں اور ایران کی حکومت کے خلاف نام نہاد احتجاج کی حمایت کے بجائے، اپنی پابندیوں کی پالیسی کو ختم کرے۔
انہوں نے "نفسیاتی کارروائی اور رائے عامہ کا رجحان تبدیل کرنا" عنوان کے تحت اپنے تازہ مضمون میں لکھا ہے کہ مغربی جاسوسی اداروں کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ ہر تنازعے کی ڈور اپنے ہاتھ میں رکھیں تا کہ ان کے آمرانہ اور توسیع پسندانہ اہداف پورے ہوسکیں۔
فل بائن نے شام میں "روژاوا" پراجیکٹ کا ذکر کیا جس کے تحت کرد علاقوں کو بظاہر خودمختاری دی جانی تھی لیکن اس کا اصل ہدف اس علاقے میں موجود تیل کے قدرتی ذخائر پر امریکہ کا قبضہ تھا اور یہی پلاننگ اس بار ایران کے لیے کی گئی۔ عوامی اور محنت کشوں کے مطالبات کا رخ مغربی ایجنسیوں نے اپنے مدنظر سیاسی اہداف کی جانب موڑنا شروع کردیا اور ان اہداف کے حصول کے لیے ایم کے او جیسے دہشت گرد گروہوں کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔
برطانوی اسکالر فل بائن نے لکھا کہ اگر مغربی دنیا کو حقیقت میں ایرانی عوام کی فکر ہے اور ان سے ہمدردی ہے تو انہیں ایرانی معاشرے کو اپنے سامراجی اہداف پر مجبور کرنے کے بجائے پابندیاں ختم کرنے پر اصرار کرنا چاہیے۔
برطانوی اسکالر فل بائن نے لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کئی عشروں پر مشتمل پابندیوں اور شدید اور وسیع دباؤ کے باوجود، بہت سے میدانوں میں قابل ذکر پیشرفت حاصل کرچکا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
قابل ذکر ہے کہ فل بائن برطانیہ کے مشہور مصنف اور اسکالر ہیں جو سنہ 2018 سے 2020 تک برطانوی پارلیمنٹ میں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر "جرمی کوربن" کے دفتر میں اپنی تحقیقی سرگرمیاں انجام دیتے رہے ہیں۔