Sep ۲۴, ۲۰۲۰ ۱۱:۲۱ Asia/Tehran
  • ہماری جنگ امریکہ کے ساتھ ہے: انصاراللہ کا شاہ سلمان کو کرارا جواب

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے رکن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب کے شاہ سلمان کو کرارا جواب دیا ہے۔

 سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پچھترویں اجلاس سے آن لائن خطاب میں یمن پر ریاض کی لشکر کشی اور  چھے سال سے جاری وحشیانہ جارحیت کی طرف کوئی اشارہ کئے بغیر ایران پر مغربی ایشیا کے علاقے میں تخریبی و کشیدگی پیدا کرنے والی پالیسیاں اختیار کرنے کا الزام لگایا۔

سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے بیان میں ایران پر یمن کے ذریعے سعودی عرب پر حملہ کرنے اور دہشتگردی کی حمایت کرنے کا بے بنیاد اور مضحکہ خیز دعوا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے بقول ان کے  ستمبر دوہزار انیس میں سعودی عرب کی تیل کی  تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ ملک سلمان نے کہا کہ بقول ان کے ایران نے یمن کے توسط سے سعودی عرب کو بلیسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

انسٹاگرام پر آپ ہمیں فالو کر سکتے ہیں

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ محمد علی الحوثی نے سعودی فرمانروا کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔  انہوں نے ملک سلمان کی ہرزہ سرائی کے جواب میں  ٹوئٹ کیا ہے کہ  سلمان بن عبدالعزیز کو جان لینا چاہئے کہ یمن کی اصلی جنگ امریکہ سے ہے کیونکہ امریکہ، سعودی عرب کو ہتھیار دے کر سعودی سرزمین سے یمن کے خلاف جنگ کر رہا ہے ۔

سلمان بن عبدالعزیز نے ایران پر یمن کی اسلحہ جاتی مدد کرنے اور اس کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنے نیز یمن کے توسط سے سعودی مراکز پر حملے کے  بے بنیاد دعوے ایسے عالم میں کئے ہیں کہ چھے سال سے جاری  سعودی حکومت  اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت میں اب تک قریب سترہ ہزار بے گناہ  یمنی شہری شہید، دسیوں ہزار زخمی اور دسیوں لاکھوں بے گھر اور دربدر ہو چکے ہیں،  لیکن اس دوران نہ صرف یہ کہ جارح اتحاد اپنا کوئی مقصد بھی حاصل نہیں کرسکا بلکہ یمن کی فوج اور عوامی رضا کار فورس کی عسکری توانائیوں اور صلاحیتوں میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ اب حتی سعودی دارالحکومت  ریاض بھی یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔

درایں اثنا المسیرہ ٹی وی نے ایسے ثبوت اور خفیہ دستاویز شائع کئے ہیں جن سے یمن کے داخلی امور میں بڑے پیمانے پر امریکی  مداخلت کا پتہ چلتا ہے۔

المسیرہ ٹی وی چینل نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ بعض ایسے دستاویزات ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صنعا میں امریکی سفارت خانہ یمن کے داخلی امور میں مداخلت کرتا رہا ہے۔  

اس رپورٹ کے مطابق  بعض دستاویزات سے اکیس ستمبر دو ہزار چودہ کے انقلاب سے پہلے یمن کے قومی سیکورٹی ادارے میں بھی امریکی مداخلت کی ثبوت ملے ہیں۔

یمن کے داخلی امور میں امریکہ کی مداخلت سے متعلق دستاویزات منظرعام پر آنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ کس طرح امریکی حکام کے اقدامات یمن کے مفادات کے برخلاف امریکا کی قومی سلامتی کے مفادات کے لئے فوری طور پر فوجی احکامات پر منتج ہوتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یمن کے عوام نے دو ہزار چودہ میں اس ملک کے مستعفی و مفرور صدر منصور ہادی کی نااہلی کے خلاف مظاہرے شروع کئے جس کا سلسلہ پورے ملک میں پھیل گیا اور مظاہرین و انقلابی قوتیں اکیس ستمبر کو دارالحکومت صنعا میں داخل ہو گئیں اور تحریک انصاراللہ نے یمن کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر قومی حکومت تشکیل دی۔

اس کے بعد سعودی حکومت نے امریکا کے اشارے پر ایک اتحاد تشکیل دے کر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کے خلاف ہمہ گیر وحشیانہ جارحیت شروع کی جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ٹیگس