Apr ۰۳, ۲۰۲۵ ۱۶:۴۶ Asia/Tehran
  • ہندوستان: لوک سبھا میں متنازع وقف ترمیمی بل منظور

ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود متنازع وقف ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔

سحرنیوز/ہندوستان:  ہندوستانی میڈیا کے مطابق وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں بارہ گھنٹے بحث کے بعد آخرکار منظور کیا گیا جس کی حمایت میں دوسو اٹھائیس اور مخالفت میں دوسو بتیس ووٹ پڑے۔ وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں منظوری کے بعد آج ہی راجیہ سبھا میں پیش ہوگا ۔ اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس متنازعہ بل کی بھرپور مخالفت کی گئي تاہم وہ وقف ترمیمی بل کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وقت ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وقف ترمیمی بل کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ بنانا اور جائیداد حقوق کو غصب کرنا ہے۔ کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل آئين پر حملہ ہے، مودی حکومت ملک کو کھائی میں گھسیٹ رہی ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں وقف بل کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ بل آرٹیکل پچیس اور چھبیس کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً آٹھ لاکھ اکاون ہزار پانچ سو پینتس جائيدادیں اور نو لاکھ ایکڑ اراضی ہے ۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے پیش کردہ وقف (ترمیمی) بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سے حکومت کو متنازع وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

 

ٹیگس