Jan ۱۳, ۲۰۲۶ ۱۹:۲۵ Asia/Tehran
  • ہندوستانی سپریم کورٹ مودی حکومت کے پاس کردہ  قانون پر سنگین آئینی تشویش میں

الیکشن کمشنرس کو قانونی کارروائی سے تاحیات استثنی پر ہندوستان کے سپریم کورٹ نے مودی سرکار کے اس قانون پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے مرکز اور کمیشن دونوں سے جواب طلب کیا ہے-

سحرنیوز/ہندوستان: ہندوستان کے سپریم کورٹ نے مودی حکومت کے پاس کردہ اس قانون پر سنگین آئینی تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں چیف الیکشن کمشنر اوردیگر کمشنرس کو قانونی کارروائی اور مقدموں سے تاحیات استثنی فراہم کیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت بطور الیکشن کمشنر کئے گئے کسی بھی اقدام پر سبکدوشی کے بعد بھی کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی۔

اس کے خلاف داخل کی گئی پٹیشن کو پیر کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ کیا صدر جمہوریہ اور گورنر تک کو نہ ملنے والی یہ رعایت، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کو دی جا سکتی ہے؟

’لوک پرہری‘ نامی این جی او کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز اور الیکشن کمیشن کو جاری کئے گئے نوٹس پر چار ہفتوں میں جواب مانگا ہے۔
یہ سماعت چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ میں ہوئی۔ این جی او نے اس طرح کی رعایت کو غلط قرار دیا ہے۔ کانگریس پارٹی بھی اس طرح کی مخالفت درج کرا چکی ہے۔ مرکز کی مودی حکومت دوہزار تیئیس میں یہ قانون لائی تھی۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

اس قانون کے مطابق کوئی بھی عدالت سرکاری ڈیوٹی میں کئے گئے کاموں جیسے انتخابی فیصلے، بیان ، ردعمل کیلئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کے خلاف ایف آئی آر یا مقدمہ درج نہیں کر سکتا۔

یہ تحفظ موجودہ اور سابق دونوں کمشنرس کو حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عہدہ پر رہنے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی ان پر مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔ لوک پرہری نےعرضی میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عہدہ پر رہتے ہوئے کوئی غلط کام کرنے کے بعد بھی مقدمہ درج نہ ہونا ٹھیک نہیں ہے۔

 

ٹیگس