Jan ۲۸, ۲۰۲۶ ۱۵:۰۰ Asia/Tehran
  • حملے کی دھمکیوں کے سائے میں سفارت کاری نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی: سید عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی حملے کے سائے میں سفارت کاری سود مند اور نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی۔

سحرنیوز/ایران: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج کابینہ کے اجلاس کے موقع پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ کئی دن سے میرے اور مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہماری طرف سے ایسی کوئی درخواست کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ثالث اور بعض دوسرے ممالک ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں کہا کہ ہم ان ثالث ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں جو نیک نیتی سے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہماری طرف سے ایسی کوئی درخواست کی گئي ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

سید عباس عراقچی  نے امریکہ کی طرف سے بیک وقت مذاکرات کی باتوں اور ایران کے گرد فوجی نقل و حرکت  کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ فوجی دھمکیوں کے ذریعے سفارتکاری نتیجہ خیز اور سود مند نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ ( امریکہ) مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دھمکیوں، ناجائز مطالبات اور غیر معقول مسائل اٹھانے سے باز رہنا چاہیے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مذاکرات کے اپنے اصول ہوتے ہیں واضح کیا کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر، باہمی احترام اور باہمی مفاد  کے لیے ہونے چاہئیں۔ ایک فریق کے لیے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے اور اسے سفارت کاری نہیں کہا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں، خطے میں امریکی موجودگی کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے پورے خطے میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ فوجی مہم جوئی پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے گی۔

 

ٹیگس