ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 ممالک پر ٹیرف لگانے کے بعد جوابی ٹیرف کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے
امریکی صدر نے پاکستان اور ہندوستان سمیت 25 ممالک پر ٹیرف لگاتے ہوئے جوابی ٹیرف کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں جس پر مختلف ممالک کی طرف سے ردعمل سامنے آرہا ہے۔
امریکا نے ٹیرف جنگ کو دنیا بھر میں پھیلاتے ہوئے پاکستان پر 29 فیصد ، ہندوستان پر 26، چین پر 34، یورپی یونین پر 20 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، سعودی عرب، قطر اور افغانستان پر بھی دس، دس فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بنگلا دیش پر37، جاپان پر 24، اسرائیل پر 17 اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد کریں گے، گاڑیوں کی درآمد پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کریں گے۔ جوابی ٹیرف میں امریکہ نے اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی نہیں بخشا ۔ یورپی یونین کو20 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جبکہ جاپان کو24 فیصد کی شرح کا ہدف دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے جوابی ٹیرف کے نفاذ کی تاریخیں بھی الگ الگ ہیں۔ کم سے کم شرح جو کہ 10 فیصد ہے کا نفاذ پانچ اپریل جبکہ سب سے زیادہ شرح نو اپریل سے لاگو ہوں گی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے روس کو اپنی اس فہرست میں شامل نہ کرنے کا دفاع کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ماسکو پر امریکی پابندیاں پہلے ہی ’کسی بھی معنی خیز تجارت کو روک دیتی ہیں۔‘امریکی ٹیرف کے جواب میں دنیا بھر نے شدید ردعمل دیا ہے۔ یورپ نے امریکی ٹیرف کو تجارتی جنگ قرار دے دیا۔ یورپی یونین نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا جبکہ چین نے بھی اسے بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکی ٹیرف پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےفرانسیسی حکومت کی ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی یونین امریکہ سے تجارتی جنگ کے لیے تیار ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں ’آن لائن سروسز کو نشانہ‘ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔