وینزویلا بحران: امریکی حملے اور صدر مادورو کے اغوا کے خلاف امریکہ کے 75 سے زیادہ شہروں میں مظاہرے
وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کے خلاف پورے امریکہ میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔
سحرنیوز/دنیا: عالمی میڈیا رپورٹوں کے مطابق وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کے خلاف واشنگٹن سمیت پورے امریکہ میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ واشنگٹن میں ہزاروں کی تعداد میں امریکی عوام نے سڑکوں پر نکل کر ٹرمپ حکومت کی اس کھلی جارحیت کی مخالفت کا اعلان کیا۔
وائٹ ہاؤس کے سامنے بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی اجتماع کیا۔ مظاہرین نے وینزویلا میں مداخلت اور دنیا میں جنگ وخوں ریزی کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
فلوریڈا میں ہونے والے مظاہروں میں لوگوں کے ہاتھوں میں وینزویلا کے پرچم بھی دیکھے گئے ہیں۔ امریکی ابلاغیاتی ذرائع کے مطابق اسی طرح کے مظاہرے امریکہ کے پچھتر سے زیادہ شہروں میں کئے جارہے ہیں۔ امریکی حکومت کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام نے اعلان کیا کہ انہیں یہ منظور نہیں ہے کہ ان کے ٹیکس کی رقم دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور جارحیت پر خرچ کی جائے۔
نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر بھی بڑی تعداد میں امریکی عوام نے اجتماع کیا اور ٹرمپ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وینزویلا سے فوج فوری طور پر واپس بلائی جائے اور مادورو کو رہا کیا جائے۔
مظاہرین نے ایسے پلے کارڈ اپنے ہاتھوں میں اٹھارکھے تھے جن پر یہ نعرے درج تھے کہ جنگ کے بجائے تعلیم، رفاہ اور عوام کو روزگار فراہم کرنے پر توجہ دی جائے۔
ہمیں فولو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channe
اس دوران نیویاک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی صدر ٹرمپ پر واضح کردیا ہے کہ وینزویلا پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ظہران ممدانی نے امریکی صدر سے ٹیلی فونی گفتگو کے دوران وینزویلا پر حملے کی مخالفت کی ہے۔ ممدانی نے کہا ہے کہ وہ وفاقی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مخالف ہیں۔