ہندوستان: دہلی کی ایک مسجد کے پاس بلڈوزر کارروائی، پتھراؤ میں 5 پولیس اہلکار زخمی
ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں فیض الٰہی مسجد کے پاس بلڈوزر کارروائی کی گئی ہے جس کے دوران مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اور پولیس کے مطابق پتھراؤ سے 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
سحرنیوز/ہندوستان: میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات فیض الٰہی مسجد کے پاس بلڈوزر کارروائی کی گئی جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اور دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پتھراؤ کی وجہ سے اس کے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے تشدد اور پتھراؤ کے الزام میں کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کی تعمیل میں دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے17بلڈوزروں اوربھاری پولیس فورس کے ساتھ رات ڈیڑھ بجے یہ انہدامی کارروائی شروع کی۔
ہندوستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ڈپٹی کمشنر آف پولیس (سینٹرل) ندھن والسن نے کہا کہ ایم سی ڈی نے چھ اور سات جنوری کی درمیانی رات کو انہدامی کارروائی کا شیڈول طے کیا تھا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں کو جائے وقوعہ پر تعینات کیا گیا لیکن احتیاط کے باوجود جب بلڈوزروں سمیت ایم سی ڈی کی مشینری پہنچنے والی تھی، اسی دوران تقریباً 100-150 افراد جمع ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ سمجھانے کے بعد منتشر ہو گئے حالانکہ کچھ نے ہنگامہ آرائی کرنے کی کوشش کی اور پتھراؤ شروع کر دیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔ ڈی سی پی نے کہا کہ ’’ہمیں بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔''
فی الحال علاقے میں پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار تعینات ہیں اور حالات قابو میں ہیں۔
ایم سی ڈی حکام کے مطابق "یہ کارروائی مکمل طور پر قانونی دائرے میں اور عدالتی احکامات کے مطابق انجام دی گئی۔ سرکاری اراضی کو تجاوزات سے پاک کرنا ہماری ترجیح ہے۔"
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ میونسپل کارپوریش، دہلی، کے حکام کے مطابق مسجد سے ملحقہ ڈسپنسری اور شادی ہال کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ ان تعمیرات کو منہدم کرنے کا فیصلہ رام لیلا میدان علاقے کے سروے کے بعد کیا گیا۔ انتظامیہ نے پہلے ہی لوگوں کو تجاوزات ہٹانے کا وقت دیا تھا۔