Jan ۱۲, ۲۰۲۶ ۱۷:۳۵ Asia/Tehran
  • ہم اہل مذاکرات ہیں مگر مسلط کردہ جنگ کے لئے پہلے سے زیادہ آمادہ

ایران کے وزیر خارجہ نے تہران میں مقیم سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مراکز کے سربراہوں کی میزبانی اور ملک کے حالات نیز امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی مداخلت، اور ان کی دھمکیوں کے تعلق سے تفصیل سے گفتگو کی۔

سحرنیوز/ایران:  ایران کی وزارت خارجہ میں منعقدہ اس میٹنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اور ایران کے دیگر سینئر سفارت کار بھی موجود تھے۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تہران میں مقیم دیگر ملکوں کے سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مراکز کے سربراہوں سے بات چیت میں عوام کے پر امن احتجاج اور امریکا نیز غاصب صیہونی حکومت کی مداخلت اور ان کے زرخرید دہشت گردوں کے ذریعے ان مظاہروں کو اغوا کرلئے جانے اور پھر ملک میں وحشیانہ دہشت گردی کا بازار گرم کئے جانے کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی۔ 

انھوں نے کہا کہ ایران کے عوام اور تاجروں نے تین دن تک پرامن احتجاج کیا اور صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے تاجروں اور پر امن احتجاج کرنے والوں کے نمائندوں سے ملاقات کی ان کے مطالبات سنے اور معیشت کے سدھار نیز اقتصادی اصلاحات کے تعلق سے کچھ ضروری اقدامات بھی کئے گئے۔

 انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں عوام کے پر امن احتجاجی مظاہروں میں نئے عناصر شامل ہوگئے اور انھوں نے ان مظاہروں کو تشدد کے راستے پر ڈالنے کے اقدمات کئے۔

 سید عباس عراقچی نے کہا کہ پہلی جنوری سے سات جنوری تک ہمیں ایسے سخت مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا جن میں تشدد کے کچھ واقعات بھی رونما ہوئے جو ہمارے لئے کسی حدتک قابل تحمل تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری سے حالات یکسر بدل گئے، اور پھر دس جنوری تک ہم نے مظاہروں میں دہشت گرد عناصر اور مسلح گروہوں اور ہتھیار بند تربیت یافتہ دہشت گردوں کی سرگرمیاں دیکھیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکا اور صیہونی حکومت کے زرخرید دہشت گردوں نے وحشیانہ دہشت گردی کے ساتھ ہی لوگوں میں ہتھیار بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ ایران کے اندر بدامنی اور دہشت گردی کا بازار گرم کرنے منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

 وزیر خارجہ سید عباس غراقچی نےتہران میں غیر ملکی سفیروں اور سینئر سفارتکاروں سے خطاب میں واضح کیا کہ ہم اپنے عوام کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے اور ملکی نیز بین الاقوامی دونوں سطح پر قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

 انہوں نے کہا کہ ان تین دنوں میں جو کچھ ہوا ہم اسے بارہ روزہ جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں جس میں ایران کے اندر افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لئے ملک سے باہر منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن ہمارے عوام نے اپنی بے مثال وحدت و یکجہتی سے کام لیا اور اغیار کی خطرناک منصوبہ بندی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس کو ناکام بنادیا ۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے سید عباس عراقچی نے اسی کے ساتھ امریکی اور صیہونی حکومتوں کی دھمکیوں اور اشتعال انگیزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو جنگ کے لئےبھی تیار ہیں اور اس وقت جنگ کے تعلق سے ہماری آمادگی اور تیاری بارہ روزہ جنگ وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسی کے ساتھ کہا کہ ہم مذاکرات کے لئے بھی تیار ہیں لیکن، حقیقی، سنجیدہ، منصفانہ، باعزت اور برابری کے سطح کے مذاکرات کے لئے جو باہمی احترام کے ساتھ دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر کئے جائیں اور ایسے مذاکرات کو ہم مسترد کرتے ہیں جس میں حکم اور ڈکٹیشن ہوجو بعض ملکوں کی عادت ہے۔ 

 

ٹیگس