Jan ۲۲, ۲۰۲۶ ۱۹:۱۳ Asia/Tehran
  • حکام حالیہ بدامنی کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، اندرونی کمزوریوں کی اصلاح کی جائے گی: صدر مملکت

ایرانی صدر پزشکیان نے کہا ہے کہ تحقیقات سے واضح ہوا کہ پرتشدد واقعات ایک مرحلے کے بعد جائز احتجاج کی حد عبور کرکے اسلامی جمہوری ایران کے خلاف منظم منصوبے میں بدل گئے۔

سحرنیوز/ایران: تفصیلات کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حالیہ پرتشدد ہنگاموں سے متعلق تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعات ابتدا میں احتجاج کی صورت میں شروع ہوئے، مگر ایک خاص مرحلے کے بعد یہ اسلامی جمہوری ایران کے خلاف نظام کی تبدیلی کی منظم کوشش میں تبدیل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حکام حالیہ بدامنی کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اصل اسباب کی نشاندہی کی جاسکے اور اندرونی کمزوریوں کی اصلاح کی جاسکے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے کس ملک میں احتجاج کے دوران ایمبولینسوں، امدادی گاڑیوں اور فائر بریگیڈ پر حملے کئے جاتے ہیں یا پولیس اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ان کے نزدیک ایسے واقعات کی روک تھام، بعد میں مجرموں سے نمٹنے سے کہیں زیادہ اہم ہے، اور معاشرے میں ذہنی صحت اور سماجی بے ترتیبی کا علاج مہنگے طبی اقدامات، حتی کہ سرجری سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے تناؤ میں کمی، تشدد کی روک تھام اور سماجی تقسیم کو گہرا ہونے سے بچانے والے ہر اقدام کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں، جس کے لئے ملکی صحت کے تمام وسائل بروئے کار لانا ہوں گے۔

ٹیگس