غزہ پٹی: تقریباً نو ہزار لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
ایک طرف غزہ میں ملبے تلے دفن شہدا کی لاشوں کو نکالنا اس وقت کا سب سے پیچیدہ اور مشکل چیلنج ثابت ہو رہا ہے وہیں ضروریات کے ساز و سامان کی شدید قلت کے باعث اب بھی تقریباً نو ہزار لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطین انفارمیشن سینٹر کے مطابق، غزہ میں امداد و نجات کی تنظیم کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ امدادی کارکنوں کے پاس دستیاب ساز و سامان ضروریات کے حجم کے لحاظ سے بالکل بھی مناسب نہیں ہے اور غزہ میں جو کچھ موجود ہے وہ اس بڑے پیمانے پر آپریشن کے لیے کسی طرح کافی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے امداد و نجات کی تنظیم کو صرف دو چھوٹی کھدائی کرنے والی مشینیں فراہم کی ہیں، ایک جنوبی غزہ میں اور دوسری شمالی غزہ میں۔
بصل کے مطابق، ان آلات میں نہ تو بقدر کافی طاقت ہے اور نہ ہی وہ مؤثر اور فوری کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر بصل نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو شہدا کی لاشوں کو نکالنے میں کئی سال لگ جائیں گے اور اس کا اثر غزہ میں جاری انسانی بحران پر بھی پڑے گا۔ بصل نے عالمی برادری اور انسانی اداروں سے فوری مدد کا مطالبہ کیا اور بتایا کہ امدادی کارکنوں کی فوری ضروریات میں 20 بلڈوزر، 20 کھدائی کرنے والی مشینیں اور 20 ٹرکوں کی فراہمی شامل ہے تاکہ بیک وقت کئی علاقوں میں کام کیا جا سکے۔
دوسری جانب امریکہ کی ثالثی میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود غزہ پٹی میں شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد شہدا کی کل تعداد 71 ہزار 391 سے تجاوز کر گئی ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں 2 افراد شہید اور 10 زخمی ہوگئے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اُدھر مغربی کنارے میں بھی دہشت گرد صیہونی فوجی بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو اغوا کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے ان کے مکانات کو تفتیش کے مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ روز قابضین نے جنین شہر میں بڑے پیمانے پر دھاوا بولا اور فلسطینیوں کے گھروں اور شہریوں پر شدید فائرنگ کی اور صوتی بم بھی پھینکے۔
ان دہشت گردوں نے نابلس کے جنوب میں واقع مادما گاؤں میں قاسم شریف نصار نامی ایک نوجوان کے گھر پر بھی دھاوا بولا اور املاک اور فرنیچر کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ الخلیل کے جنوب میں واقع الظاہریہ قصبے میں صیہونی فوجیوں اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔