Oct ۲۹, ۲۰۲۲ ۰۹:۰۸ Asia/Tehran
  • فائل فوٹو
    فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج صبح دوبارہ شاہدرہ سے شروع ہوا۔ پی ٹی آئی لیڈر شفقت محمود نے کہا ہے کہ عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں جب کہ دارالحکومت انتظامیہ نے این او سی مسترد نہ کرنے کی پی ٹی آئی سے وجہ پوچھ لی۔

سحر نیوز/ پاکستان: پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عمران خان کا لانگ مارچ جاری ہے۔ یہ لانگ مارچ کل لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہوا تھا اور کل شام کو ہی لاہور میں داتاصاحب پر رک گیا تھا جسے آج صبح دوبارہ شروع کیا گیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں روک سکتا اور ان کے کارکن ان کے اسلام آباد پہنچنے اور ان کے اگلے فیصلے کا انتظار کریں۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی پارٹی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے لانگ مارچ کرے گی، ہم صرف فوری اور صاف شفاف الیکشن چاہتے ہیں اور کوئی بھی اس ڈیمانڈ کو نہیں روک سکتا۔

تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا ہے کہ لانگ مارچ عوام کی بھرپورحمایت سے شروع ہو گیا ہے اور عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی حنا پرویز بٹ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ایک ہی دن میں شارٹ مارچ بن گیا ہے اور پی ٹی آئی کارکنوں نے عمران کا ساتھ دینا چھوڑ دیا ہے۔

جب کہ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کے فیصل واڈا کی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ بیانیے کے مطابق فیصل واڈا کی رکنیت اس وقت ختم کر دی گئی جب انہوں نے پارٹی کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

فیصل واڈا نے ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کے لانگ مارچ کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

موسمیات کی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے پردے میں ایک ذاتی سیاسی لڑائی لڑی جا رہی ہے، حقیقی آزادی کا مقصد مجھے اقتدار پر بٹھاؤ ہے، ملک آزاد ہے اور عوام آگاہ ہیں۔ اگر ملک میں کوئی چیز خراب اور تابع ہے تو وہ عمران خان کی سیاست اور ان کی سوچ ہے۔

دارالحکومت کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے گزشتہ جلسوں کے دوران طے شدہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر وضاحت طلب کر لی ہے اور کہا ہے کہ کن بنیادوں پر پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی دی جانے والی درخواست کو مسترد نہ کیا جائے۔

دارالحکومت انتطامیہ نے مزید پوچھا کہ پی ٹی آئی کن علاقوں میں اجتماع کرے گی اور وہ اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی پر لازمی ہے کہ وہ اجتماع کا وقت، شرکاء کی تعداد اور اسلام آباد میں داخل ہونے کا راستہ بھی بتائیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے اپنی تقریر کے دوران ملکی خفیہ ایجنسی آئی آیس آئی، فوج اور موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اورملکی تاریخ میں پہلی بار ملکی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرکے معاملات کی وضاحت کی ہے جو پاکستانی ملکی صورتحال کی پیچیدگی کی طرف ایک اشارہ ہے۔

اس کے علاوہ ہندوستانی وزیردفاع کا گلگت بلتسان کے الحاق پر بیان بھی پاکستان میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور ملکی اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں ہندوستانی وزیردفاع کے اس بیان پرشدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

ٹیگس