جرمن چانسلر کے مداخلت پسندانہ بیان پر ایرانی وزیر خارجہ کا سخت رد عمل: کچھ تو شرم کرو!
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے مداخلت پسندانہ بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جرمن حکام کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ "کچھ تو شرم کرو!"
سحرنیوز/دنیا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنی ایکس پوسٹ میں جرمن چانسلر فریڈرش مرٹس کے مداخلت پسندانہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں اظہار رائے کے لیے دنیا کی تمام حکومتوں میں سے جرمن حکومت کی پوزیشن شاید بدترین ہو، جس کی سادہ سی وجہ ہے۔
سید عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران کھلم کھلا دوہرے معیار نے، جرمن حکومت کی ساکھ کو مٹی میں ملا دیا ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جرمن حکام کو مخاطب کرکے لکھا کہ کچھ تو شرم کرو! بہتر یہ ہوگا کہ جرمنی ہمارے خطے میں اپنی غیرقانونی مداخلت کے سلسلے کو بند اور نسل کُشی اور دہشت گردی کی حمایت بند کرے۔
وزیر خارجہ نے لکھا کہ جب ایران ان دہشت گردوں کی کمر توڑتا ہے جو عام شہریوں اور پولیس افسروں کے قتل میں ملوث تھے تو جرمن چانسلر جلد بازی کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ تشدد کمزوری کی علامت ہے۔
سید عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ "مرٹس صاحب! غزہ میں 70 ہزار فلسطینیوں کے قتل عام کی اپنی حمایت کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟"
وزیر خارجہ نے لکھا کہ جرمن چانسلر یہ کہہ چکے ہیں کہ صیہونی حکومت کے ہاتھوں بلا وجہ اور غیرقانونی تشدد وہ "گندا کام" ہے جو تل ابیب یورپ کے لیے کر رہا ہے اور جرمنی نے تو امریکہ کے ہاتھوں ایک ملک کے صدر کو اغوا کرنے پر بھی مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
قابل ذکر ہے کہ جرمن چانسلر نے ایک بے شرمانہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نظام کا کام تمام ہوچکا ہے اور شاید چند ہی دن یا ہفتے، ان کے بقول، اس کے خاتمے میں باقی ہوں۔