عراقچی : سلامتی کونسل کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک، خاص طور پر روس اور چین، اور دیگر وہ ممالک جو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی پاسداری کرتے ہیں، انہیں امریکہ کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ سلامتی کونسل کو حالات کو مزید پیچیدہ بنانے کے لیے استعمال کرے۔
سحرنیوز/ایران:سید عباس عراقچی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ فوجی کارروائیوں کے سکیورٹی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کھلی جنگی جرم اور نسل کشی کے مترادف ہے، اور اگر ایسا ہوا تو ایران فوری اور سخت جواب دے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی دراصل امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے، اور ایران پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ممالک کو ان کی قانون شکنی اور اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بعض ممالک، خصوصاً بحرین، کی جانب سے امریکی پالیسیوں کی حمایت اور سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 مارچ کی سلامتی کونسل کی قرارداد حقائق کو مسخ کرتی ہے کیونکہ اس میں اصل ذمہ داروں کے بجائے ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔
عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایک اور ایسی ہی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار ممالک کو چاہیے کہ وہ اس عمل کو روکیں۔
اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کی مذمت کی اور کہا کہ روس ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کے تحفظ اور عالمی نظام میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے کوشش کرتا رہے گا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel