غزہ پر دہشت گرد اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری، 100 سے زائد فلسطینی شہید، ایمبولینسوں کو بھی بنایا نشانہ
قابض صیہونی فوج کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، جن میں مزید 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ایمبولینسوں پر مہلک گولی باری جنگی جرم قرار پا سکتی ہے۔ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے دار الارقم اسکول کو نشانہ بنایا، جہاں 33 فلسطینی پناہ گزین، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، شہید ہو گئے۔ فسلطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں غزہ میں دار الارقم اسکول پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ایمبولینسوں پر مہلک گولی باری جنگی جرم بن سکتی ہے۔مقبوضہ فلسطین میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ دو ہفتے قبل غزہ میں پندرہ ڈاکٹروں اور ایمرجنسی ورکرز کی شہادت نے اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کے بارے میں مزید تشویش پیدا کردی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے مزید کہا ہے کہ ان ہلاکتوں کی آزادانہ، فوری اور مکمل تحقیقات ہونی چاہییں اور بین الاقوامی قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانا چاہیے۔

دراین اثنا فلسطینی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ایک نئے حملے میں شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) سے منسلک ایک کلینک کو نشانہ بنایا، جہاں فلسطینی پناہ گزینوں کو رکھا گیا ہے۔