Apr ۲۴, ۲۰۲۴ ۱۳:۳۱ Asia/Tehran
  • ایران و پاکستان کا دہشتگردی، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی روک تھام کیلئے مشترکہ اقدام

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی کے دورے کے بعد پاک ایران مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

سحر نیوز/ پاکستان: پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور ایران کا مشترکہ اعلامیہ 28 نکات پر مشتمل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے وزیر اعظم سے وفود کی سطح پر بات چیت کی، فریقین نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق دورے کے دوران باہمی تشویش کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، مفاہمت کی متعدد یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق برادرانہ تعلقات مضبوط بنانے کیلئے اعلیٰ سطح کے دوروں کے باقاعدہ تبادلے کے ذریعے باہمی روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں پڑوسیوں اور مسلم ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور تہذیبی تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران نے دمشق میں ایرانی قونصلر سکیشن پر حملے کی مذمت کی، دونوں ممالک نے باہمی سرحد کو پاک ایران دوستی اور امن کی سرحد کے طور پر تسلیم کیا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران نے مستقل بنیادوں پر سیاسی اور سیکیورٹی حکام کے تعاون پر اتفاق کیا۔ باہمی تعاون کا مقصد دہشتگردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔

یاد رہے کہ  پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پیر 22 اپریل کو پاکستان کے 3 روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے اور وہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کا دورہ مکمل کر کے آج 24 اپریل کو کراچی سے سری لنکا کیلئے روانہ ہوئے ۔

مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، ایرانی صدر کے ہمراہ وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی تھا۔

ٹیگس