گرین لینڈ پر ٹرمپ کی لالچی نظر ، مخالفت میں شدت ، گرین لینڈ کی سیاسی جماعتیں میدان میں
گرین لینڈ کے سیاسی گروہوں نے اس آزاد و خود مختار جزیرے پرامریکہ کے قبضے کی شدید مخالفت کردی ہے-
سحرنیوز/دنیا: گرین لینڈ کے سیاسی گروہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے مشترکہ بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس جزیرے پر قبضے کی خواہش کو مسترد کردیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں دعوی کیا تھا کہ گرین لینڈ کا واشنگٹن سے الحاق، امریکہ کی قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے لئے ضروری ہے، انہوں نے اپنے دعوے میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ممکن ہے گرین لینڈ پر قبضہ، پر امن طریقے سے یا فوجی حملے کے ذریعے انجام پائے۔
ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ گرین لینڈ پر حتمی طور پر قبضہ کیا جائے گا، دعوی کیا کہ اگر اس کام کو انجام نہ دیا گيا تو بقول ان کے چین اور روس اس پر قبضہ کر لیں گے اور ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات پر دلیل پیش کی کہ قطب شمالی میں چین اور روس کی دھمکیوں کے سدباب اور امریکی کی نیشنل سیکیورٹی کی ضمانت کے لئے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے اور وائٹ ہاؤس نے اس جزیرے پر قبضے کے لئے فوجی آّپشن کو مسترد نہیں کیا ہے۔
گرین لینڈ کی حکومت کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں آیا ہے کہ ڈینمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکہ راسموسن اورگرین لینڈ کے وزیر خارجہ ویویان موتزفلڈ بہت جلد مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ کے رہنماؤں نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں تاکید کی ہے کہ معدنیات سے سرشار شمالی امریکہ کے اس جزیرے کی بھر پور حفاظت کی جائے گی اور گرین لینڈ کے عوام ہی اس کے حقیقی مالک ہیں۔
یہ ایسے میں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ میں کاروائی کریں گے چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری۔ٹرمپ نے مزید کہ کہ اگر یہ کام آسانی سے انجام پاگيا تو ٹھیک ہے ورنہ مشکل طریقہ بھی آزمایا جائے گا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اس سے قبل سی این این نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ گرین لینڈ اور ڈینمارک کے سفارت کاروں نے گذشتہ جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے حکام کے ساتھ ملاقات میں اعلان کیا تھا کہ یہ علاقہ برائے فروخت نہیں ہے۔