Apr ۰۴, ۲۰۲۵ ۱۷:۴۵ Asia/Tehran
  • ہندوستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی وقف ترمیمی بل پر بھاری ہنگامے کے بعد ملتوی

حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے زبردست ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ہندوستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

سحرنیوز/ہندوستان: ہندوستان کے میذیا ذرائع کے حوالے سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس سمیت اپوزیشن کے کچھ ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی اور کچھ ارکان ایوان کے وسط میں آ گئے۔ دوسری طرف حکمراں جماعت کے کچھ ارکان بشمول بی جے پی کے نشی کانت دوبے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوگئے اور سونیا گاندھی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کردی۔

اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوال چلانے کی کوشش کی لیکن دونوں طرف سے نعرے بازی تیز ہوگئی۔ اوم برلا نے لوگوں سے اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کی اور کہا کہ سوال کا وقت ایک اہم وقت ہوتا ہے۔ یہ ایوان کے وقار کے مطابق نہیں ہے۔ اسپیکر کی اپیل کے باوجو ہنگامہ نہیں رکا تو ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ دوسری طرف ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑنے جمعہ کو ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پہلے دوپہر بارہ بجے تک اور پھر ایک بجے تک ملتوی کر دی، جس کی وجہ سے وقفہ صفر اور وقفہ سوال نہیں ہو سکا۔

اسپیکر اوم برلا

صبح کے التوا کے بعد بارہ بجے جب ایوان دوبارہ شروع ہوا تو حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے اونچی آواز میں بولنا شروع کردیا۔ ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے وقف ترمیمی بل کے حوالے سے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن چیئرمین نے کہا کہ ایوان میں پوائنٹ آف آرڈر نہیں ہے اور وہ کارروائی ملتوی کر رہے ہیں۔ایوان میں ضروری قانون سازی کے دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد، بی جے پی کے لکشمی کانت باجپئی نے مغربی بنگال میں 25,000 اساتذہ کی تقرریوں کو منسوخ کرنے کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا مسئلہ اٹھایا۔

اس پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان نوک جھونک ہوئی جس کو دیکھتے ہوئے چیئرمین نے کارروائی ملتوی کر دی۔قابل ذکر ہے کہ وقف ترمیمی بل پر ہندوستان میں مسلم تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہے حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً 8 لاکھ 51 ہزار 5 سو 35 جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جس سے وہ ہندوستان کے سرِ فہرست تین بڑے زمینداروں میں شامل ہوتا ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے پیش کردہ وقف ترمیمی بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سے حکومت کو متنازعہ وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ یہ قانون مسلم برادری اور مودی حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وقف ترمیمی بل کو منظوری مل گئی ہے۔

 

ٹیگس