شہید سلیمانی کا بزدلانہ قتل ، بھیانک جرم ، ایرانی مندوب
اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ہاتھوں شہید قاسم سلیمانی کے بزدلانہ قتل کو تمام عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کے مواخذے اور اسے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
سحرنیوز/ایران: اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے امریکہ کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کے موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں تاکید کی ہے کہ اس طرح کا اقدام انتہائی بدترین جرم اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کارروائی کا پورے طورپر امریکہ ذمہ دار ہے-
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سینئر سفارت کار نے ہفتے کے روز، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں شہید جنرل سلیمانی کے قتل کے قانونی نتائج اور اس طرح کے مجرمانہ اور غیر قانونی فعل کے ارتکاب کے لیے امریکہ کو پورے طور پر ذمہ دار قرار دیا۔ایروانی نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ کارروائی اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک اور ایک خودمختار ملک کے اعلی عہد یدار کے خلاف دانستہ اور غیر قانونی کارروائی تھی کہ جس نے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا-انہوں نے کہا کہ امریکہ کایہ اقدام بین الاقوامی قوانین بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی معاہدوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے تاکید کی کہ اپنا دفاع کرنا قانونی حق ہے لیکن دہشت گردی کے اس گھناؤنے فعل کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک خودمختار ملک کے ایک اعلی فوجی اہلکار کے قتل نے ایک انتہائی خطرناک روایت کو جنم دیا ہے کہ جس کےسبب طاقت کے استعمال کی ممانعت کا اصول بنیادی طور پر کمزور ہوا ہے اور یہ امر بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے عالمی برادری کی خاموشی اور بے عملی نے امریکہ کو مزید گستاخ بنا دیا ہے۔