Jan ۲۱, ۲۰۲۶ ۱۲:۱۹ Asia/Tehran
  • ڈیووس اجلاس کے منتظمین پر ایرانی وزیر خارجہ کی سخت تنقید

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ڈیووس اجلاس میں شرکت کی دعوت منسوخ کیے جانے پر سخت تنقید کی ہے۔

سحرنیوز/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایکس پیغام میں لکھا ہے کہ ڈیووس اجلاس کے لیے میرا دعوت نامہ اسرائیل اور امریکہ میں سرگرم صیہونی حکومت کے ایجنٹوں اور حامیوں کے سیاسی دباؤ میں کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے حالیہ پُرتشدد واقعات کے سلسلے میں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ موساد کی کُھلی حمایت سے بہرہ مند مسلح دہشت گردوں اور داعش کی طرح انجام دیئے گئے قتل عام کے مقابلے میں اپنے عوام کا دفاع کرنا ہمارا فری‍ضہ تھا۔

سید عباس عراقچی نے مزید لکھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کُشی اور 71 ہزار سے زیادہ  بے گناہوں کا اجتماعی قتل بھی ڈیووس اکنامک فورم میں اسرائيلی حکام کی شرکت  روکے جانے کا سبب نہیں بنا۔ ہرتزوگ نے تو جنوری 2024 میں بھی ڈیووس کا چکر لگایا تھا حالانکہ سوئٹزرلینڈ میں انہیں غزہ کی نسل کُشی کے حوالے سے مجرمانہ الزامات کا بھی سامنا تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی اکنامک فورم کو اخلاقی قدروں کا ڈھونگ رچانا ہے تو کم سے کم اپنے موقف پر قائم رہے، اس طرح کے دوہرے معیار صرف اس فورم کے اخلاقی انحاط اور فکری زبوں حالی کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے اس پیغام کے ساتھ ایران میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کے بارے میں، جو غاصب اسرائیلی اور امریکی حکومت سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی مداخلت سے پُرتشدد ہوگئے تھے، ایک دستاویزی ویڈیو کلپ بھی منسلک کی ہے۔

 

ٹیگس