پہلی مرتبہ جمعرات کے روز آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رک گئی۔
ایران کے خلاف امریکی ۔ صہیونی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات کے روز آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رک گئی۔
سحرنیوز/ایران: امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو پہلی بار ایسا ہوا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ سے کسی بھی تیل بردار جہاز نے گزر نہیں کیا۔
سی این این کو فراہم کیے گئے ایس اینڈ پی گلوبل کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کے دن اس آبی راستے سے ایک بھی آئل ٹینکر نہیں گزرا۔
اس سے ایک دن پہلے تین تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔صورت حال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے جنگ شروع ہونے سے ایک دن پہلے کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو اس دن 65 تیل بردار جہاز اس راستے سے گزرے تھے۔
تیل کی صنعت کے ایک سینئر عہدیدار نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز بتدریج بند ہوتی نظر آ رہی ہے اور جہازوں کا آنا جانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
یہ غیر معمولی تعطل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی صہیونی جنگ شروع ہونے کے بعد کئی انشورنس کمپنیوں نے سمندری سفر کے لیے اپنی انشورنس کوریج بھی منسوخ کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو دنیا میں تیل کی فراہمی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنا سے گزرتا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel