نیتن یاہو امریکہ کی کٹھ پُتلی بن گئے ہیں: سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ
غاصب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو امریکہ کی کٹھ پُتلی بن گئے ہیں۔
سحرنیوز/عالم اسلام: ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایہود اولمرٹ نے موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر سخت حملہ کرتے ہوئے انہیں اور ان کی کابینہ کو دہشت گرد روبوٹ قرار دیا اور کہا کہ نیتن یاہو عملی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کٹھ پُتلی بن گئے ہیں۔
ایہود اولمرٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو کی کابینہ غزہ میں جنگ جاری رکھنا چاہتی ہے۔
غاصب حکومت کے اس سابق وزیر اعظم نے نیتن یاہو کے دو انتہا پسند وزیروں اتمار بین گویر اور اسموتریچ کو روبوٹ دہشت گردوں کے گروہ کا حصہ قرار دیا۔
ایہود اولمرٹ نے ٹرمپ کی نام نہاد غزہ امن کونسل میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا طنز آمیز جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے موافقت نہیں کی ہوگی اور ویسے بھی کسی نے ان سے (نیتن یاہو سے) ان کی رائے پوچھی بھی نہیں ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
سابق صیہونی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا کہ جنگ کے پہلے دن سے ہی اسرائیلی حکومت نے اسٹریٹیجی نہ ہونے کی بنا پر جنگ کے بعد کے لئے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا اور بالآخر امریکہ نے اس سلسلے میں منصوبہ پیش کیا۔