Jan ۰۷, ۲۰۲۶ ۱۱:۱۷ Asia/Tehran
  • تجارتی فائدے کے لیے ہندوستان کو ناراض کرناامریکہ کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے: امریکہ کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن

امریکہ کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ہندوستان امریکہ کا سب سے بڑا شراکت دار ہے، ایسے حالات میں تجارتی فائدے کے لیے ہندوستان کو ناراض کرنا جیو پولیٹیکل طور پر امریکہ کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔

سحرنیوز/دنیا: فرانس 24، نیوز نیشن اور کئی دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق جان بولٹن نے ایک انٹرویو میں نہ صرف کیوبا اور وینزویلا کے مستقبل پر بات کی بلکہ ہندوستان پر عائد کیے گئے ٹیرف کے معاملے میں بھی ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ جان بولٹن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں اسٹریٹیجک سمجھ کی کمی ہے، جو نہ صرف امریکہ کے پڑوسی ممالک بلکہ ہندوستان جیسے اہم شراکت داروں کے ساتھ بھی تعلقات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

 

جان بولٹن نے کہا کہ ’’ہمیں خطرات (چین اور روس) کے خلاف ہندوستان، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن ٹرمپ صرف ٹیرف اور تیل کی فروخت کے معاملے میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔‘‘

 

امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر کا کہنا تھا کہ’’انہوں نے (ٹرمپ نے) ہندوستان پر ٹیرف لگا دیا لیکن چین پر نہیں، جو روسی تیل کہیں زیادہ خریدتا ہے یا ترکی جیسے دوسرے ممالک پر بھی نہیں، جو بڑی مقدار میں روسی تیل خریدتے ہیں۔‘‘

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

جان بولٹن نے مزید کہا کہ انڈوپیسفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ہندوستان امریکہ کا سب سے بڑا شراکت دار ہے ایسے حالات میں تجارتی فائدے کے لیے ہندوستان کو ناراض کرنا جیو پولیٹیکل طور پر امریکہ کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔

جان بولٹن نے کہا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا طریقہ نکلے جس سے ہم ٹرمپ اور مودی کو دوبارہ براہِ راست بات چیت پر آمادہ کر سکیں اور دیکھ سکیں کہ آیا وہ کوئی حل نکال پاتے ہیں یا نہیں۔‘‘

 

ٹیگس