آئی آر جی سی کے کمانڈر کا بڑا بیان، جنگ ہم شروع نہیں کریں گے، لیکن ہر جنگ کے لئے تیار ہيں
سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف نے کہا ہے کہ ہم جنگ شروع نہیں کریں گے لیکن ہر جنگ کے لئے تیار ہیں؛ اس دشمن پرغلبے کے طریقے ہم نے سیکھ لئے ہیں اور ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ارنا کے مطابق جنرل حسین سلامی نے سنیچر 5 اپریل 2025 کو سپاہ پاسداران کےجنرل کمانڈ ہیڈکوارٹرس کے کمانڈروں اور افسران کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دشمن، اسلام اور ولایت کو جھکانے اور اس کی عزت، کرامت اور تشخص ختم کرنے پر کمر بستہ ہے لیکن ہرگز یہ کام نہیں کرسکتا۔ سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف نے غزہ کی رزمیہ داستان کو تاریخ کی حیرت انگیز ترین داستان قرار دیا اور کہا کہ مکمل طور پر محصور ایک پٹی کے عوام، کھانے پانی کے بغیر، دشمن کی بے رحمانہ فائرنگ میں قرآن پڑھتے ہیں، حجاب کی پابندی کرتے ہیں، کلمہ شہادتین پڑھتے ہیں، ڈٹے ہوئے ہیں اور دشمن کو غلبہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

جنرل حسین سلامی نے کہا کہ یہ دنیا کے سبھی جدید ترین اسلحے اور جنگی وسائل کے مقابلے میں ایمان کی حقیقی جنگ ہے۔ انھوں نے استقامتی محاذ کی پائیداری و استواری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی مجاہدین، حزب اللہ لبنان اور عراق کے مزاحمتی محاذ کے مجاہدین بھی اسی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ آئی آر جی سی کے کمانڈر نے کہا کہ اگر ہم یہ سوچیں کہ اس بڑے شیطانی محاذ سے مقابلے میں حزب اللہ، فلسطین یا ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچے تو یہ سوچ جنگ کے حقائق کے مطابق نہیں ہوگی۔
پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے صیہونی حکومت سے حالیہ مقابلے اورآپریشن وعدہ صادق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ٹکراؤ کو ایک حقیقی اور بقا کی جنگ قرار دیا اور دو مورچوں کے تصادم سے تعبیر کیا۔ جنرل حسین سلامی نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق نے عظمت اسلام ثابت کردی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات قابل فخر تھی کہ مسلمین نہیں جھکے، بالکل نہیں جھکے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں استقامتی محاذ کی پوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگراستقامتی محاذ اورہم کمزور ہوگئے تھے تو دشمن لبنان میں رک کیوں گیا؟ اس نے غزہ میں جنگ بندی کیوں تسلیم کی؟ حزب اللہ اسی طرح طاقتور کیوں ہے؟ اور فلسطین اسی طرح جنگ کیسے کرہا ہے؟انھوں نے کہا کہ مسلسل بمباریوں کے باوجود یمن اسی طرح ڈٹا ہوا ہے، یہاں تک کہ خود امریکیوں نے بھی بمباریوں کے بے اثرہونے کا اعتراف کیا ہے اور دشمن بند گلی میں پھنس گیا ہے۔
جنرل حسین سلامی نے کہا کہ دشمن ایران کی دفاعی اور انسدادی طاقت کمزورہونے کے مفروضے بیان کرکے ہمیں،اپنی شرائط یا تصادم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ" ہم پاسداران انقلاب اسلامی ہیں، جہاد ہماری جائے پیدائش اورمسکن ہے، ہمیں بڑی جنگوں اور بڑے دشمنوں کو شکست دینے کے لئے بنایا گیا ہے۔"
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ " اگر چہ عاشوار کی دوبارہ تکرار نہیں ہوگی لیکن ہم نے عاشورا سے ہی سیکھا ہے اور اسی مکتب کے شاگر د ہیں۔"
انھوں نے دشمن کی کمزوریوں اور اس کے پھیلے ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے دشمن زمین پر پھیلے ہوئے ہیں اور ہرجگہ ہماری دسترس ميں ہیں اور صیہونی حکومت ہمارے سامنے بچھے ہوئے ایک دسترخوان کی طرح ہے۔"
جنرل حسین سلامی نے کہا کہ اس دشمن پر غلبے کے طریقے ہم نے سیکھ رکھے ہیں اور انہیں اپنے سبھی ارکان میں منتقل کردیا ہے اور اپنے اسلحے اور جنگی وسائل اسی بنیاد پر تیار کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کی بھرپور حمایت کے باوجود اس حکومت کو شکست دینے کے ہارڈ ویئڑ اورسافٹ ویئر، سبھی طرح کے وسائل ہمارے پاس موجود ہیں۔ سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ " ہم جنگ سے ہرگز نہیں گھبراتے، ہم جنگ شروع نہیں کریں گے لیکن ہر جنگ کے لئے تیار ہيں۔ انھوں نے کہا کہ "اپنے وطن، تشخص اوربقا کے دفاع کے لئے عطش جہاد، ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ایک حقیقت ہے، ہم نفسیاتی آپریشن اور فوجی اقدام، دونوں کے مقابلے کے لئے تیار ہیں اور دشمن کے مقابلے میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"
جنرل حسین سلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دشمن ہماری دسترس میں ہے، کہا کہ بڑی طاقت اور توانائی جمع ہوچکی ہے،اگر دشمن ہمارے ہاتھ کھول کر، ہماری طاقت کی حقیقت دیکھنا چاہتا ہے تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔"
جنرل حسین سلامی نے کہا کہ استقامتی محاذ کی پوزیشن بہتر ہورہی ہے اور یہ محاذ ترقی اور پیشرفت کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دشمن اس محاذ سے متصادم ہونے سے عاجز ہے جبکہ استقامتی محاذ ابھی اپنی پوری استعداد بروئے کار نہیں لایا ہے اور میدان جنگ کو کنٹرول کرنے میں احتیاط سے کام لے رہا ہے لیکن اگر ہمیں اپنے ہاتھ کھولنے (یعنی سبھی توانائیاں اور استعداد بروئے کار لانے ) پر مجبور کیا گیا تو جنگ کی آگ اس حدتک پھیل جائے گی جس کا دشمن نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔