"صومالی لینڈ" کو تسلیم کرنے کے پانچ اہداف میں سعودی عرب اور مصر بھی شامل
ممتاز عرب تحزیہ نگار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ "صومالی لینڈ" کو تسلیم کرنے کے پانچ اہداف ہیں جن میں دو ممالک سعودی عرب اور مصر بھی شامل ہیں۔
سحرنیوز/عالم اسلام: ممتاز عرب تحزیہ نگار عبدالباری عطوان نے "صومالی لینڈ" کو تسلیم کرنے کے صیہونی حکومت کے اقدام کو عرب ملکوں کی تقسیم کی راہ میں پہلا قدم قرار دیا ہے- عبدالباری عطوان نے "صومالی لینڈ " کو تسلیم کرنے کے غاصب صیہونی حکومت کے غیر قانونی اقدام کے پانچ اہداف بیان کئے ہیں اور کہا ہے کہ مصر اور سعودی عرب بھی بڑے خطرات سے روبرو ہیں۔
ممتاز عرب تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے صیہونی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کا پہلا ہدف غزہ کے لاکھوں مظلوم فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کرنا بتایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اس حوالے سے صیہونی وزیر اعظم نام نہاد صومالی لینڈ علیحدگی پسند تحریک کے سربراہ کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں ضروری مشاورتیں انجام دے چکے ہیں۔ عبدالباری عطوان نے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ غزہ کے ساکنین کو جبری طور پر یہاں سے زمینی اور فضائی راستوں سے منتقل کرنے کے منصوبوں کی خبریں آچکی ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انھوں نے اس خطرناک اقدام کا دوسرا ہدف خلیج عدن اور باب المندب میں فوجی اڈے قائم کرنا اور بحیرہ احمر نیز اس کے مغربی ساحلوں پر تسلط بتایا ہے۔ عبدالباری عطوان نے "صومالی لینڈ" کو تسلیم کرنے کا تیسرا ہدف ایشیا اورمشرقی افریقہ کے ساتھ اسرائيل کی بحری تجارت کے راستوں کو پرامن بنانا بتایا ہے جو یمنی مجاہدین کے ذریعے اسرائیل کے لئے بحیرہ احمر کو بند کئے جانے کے نتیجے میں رک گئی ہے۔
عطوان کے مطابق "صومالی لینڈ" کو تسلیم کرنے کا چوتھا مقصد نہر سوئز پر اسرائیل کا کنٹرول اور مصری حکام کو بلیک میل کرنا ہے اور پانچواں ہدف سبھی عرب ملکوں کی برآمدات کو خطرے میں ڈالنا ہے چاہے آبنائے ہرمز سے انجام پائيں، یا متحدہ عرب امارت، سعودی عرب ، عمان اور یمن کی بندرگاہوں سے۔
یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، او آئی سی اور مختلف عرب اور اسلامی ملکوں نے "سومالی لینڈ" کو تسلیم کرنے کے صیہونی حکومت کے اقدام کو ایک خطرناک بدعت اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ تل ابیب اپنے شرپسندانہ اقدامات کے ذریعے خطے کے ملکوں کو بدامنی میں دھکیلنا چاہتا ہے۔