ٹرمپ ایران کی بالواسطہ مذاکرات کی تجویز پر غور کر رہے ہیں، میڈیا ذرائع
میڈیا ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس بالواسطہ جوہری مذاکرات کی ایرانی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق، نیوز ویب سائٹ Axios نے دعوی کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس بالواسطہ جوہری مذاکرات کی ایرانی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کسی معاہدے کو ترجیح دیں گے لیکن اس دوران انہوں نے دھمکی دی کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں "بمباری ہوگی"!

ایک امریکی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ ٹرمپ کو ایران کی طرف سے خط کا باضابطہ جواب موصول ہوا جو اس نے تین ہفتے قبل رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھیجا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرمپ نے براہ راست جوہری مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے، لیکن ایرانی صرف عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات پر رضامند ہوں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ براہ راست بات چیت میں کامیابی کے زیادہ امکانات ہوں گے لیکن وہ ایرانیوں کے تجویز کردہ فارمیٹ کو مسترد نہیں کر رہی ہے اور عمانیوں کی جانب سے ممالک کے درمیان ثالثی پر اعتراض نہیں ہے، جیسا کہ یہ عرب ریاست ماضی میں کرتی رہی ہے۔
امریکی حکام نے کہا کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے تاہم اندرونی بات چیت جاری ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں پر اعلیٰ ایرانی حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف حماقت کی تو اسے یقینی طور پر دندان شکن جواب دیا جائے گا۔