اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے نام ایران کے وزیر خارجہ کا مکتوب
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکا اور صیہونی حکومت کے حملے میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ کی شہادت کے بعد اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے نام اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ اس حملے کے نتائج بہت گہرے اور وسیع ہوں گے جن کی ذمہ داری حملہ کرنے والوں پرہوگی
سحرنیوز/ایران: وزیرخارجہ سید عباس عراقچی کا مکتوب اتوار کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئر مین کو دیا گیا۔
وزیر خارجہ نے اس اس مکتوب میں لکھا ہے کہ 28 فروری 2026 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین پر امریکا اور اسرائيل کی بلااشتعال اور ناقابل توجیہ جارحیت کے نئے سلسلے میں اقوام متحدہ کے مستقل رکن ملک ایران کے اعلی ترین سرکاری عہدیدار یعنی رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے اپنے اس مکتوب میں لکھا ہے کہ یہ بزدلانہ دہشت گردی اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ دو کی شق چار کی کھلی خلاف ورزی، بین الاقوامی حقوق کے بنیادی ترین اصولوں کی پامالی، طاقت کے استعمال کی ممانعت کے منافی، سبھی حکومتوں کو حاصل مساوی اقتدار اعلی نیز ملکوں کے سربراہوں کو حاصل تحفظ اور ان پر حملہ نہ کرنے کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
سید عباس عراقچی نے اپنے اس مکتوب میں لکھا ہے کہ یہ اقدام ایک ایسی خطرناک روش کا آغاز ہے جو حکومتوں کے اقتدار اعلی کے بنیادی اصولوں اور اقوام کے درمیان رائج متمدن طرزعمل پر براہ راست حملہ ہے۔
انھوں نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ سربراہان مملکت، اپنی اقوام کے اقتدار کی تجلی اور محترم ہوتے ہیں، انہیں استثنی حاصل ہوتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔
یہ اصول اس لئے ضروری ہے کہ سربراہان مملکت آزادی اور خود مختاری کے ساتھ اپنے سرکاری فرائض ادا کرسکیں۔ سید عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ " بنابریں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی ترین عہدیدارپر عمدا حملہ حکومتوں کے روابط میں رائج بنیادی ترین اصولوں کی ایسی کھلی خلاف ورزی ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
یہ اقدام صرف بین الاقوامی قوانین اور بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہی نہیں ہے بلکہ ایسی بے اعتنائی بھی ہے جو انتہائی خطرناک مشکلات کا باعث بنے گی اور حکومتوں کے اقتدار اعلی کی برابری اور بین الاقوامی نظام کے ثبات کو کمزور کرے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ نے لکھا ہے کہ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای صرف اس ملک کے اعلی ترین سرکاری عہدیدار ہی نہیں تھے، بلکہ ممتاز دینی ہستی اور اس علاقے نیز پوری دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے لئے محترم ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اس حملے کے بہت ہی عمیق اور وسیع نتائج برآمد ہوں گے جن کی پوری ذمہ داری صرف اس حملے کے مرتکبین پر عائد ہوگی۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ یہ بات، اقوام متحدہ کے منشور 51 کے مطابق کسی بھی طرح، اسلامی جمہوریہ ایران کے اپنے اقتدار اعلی، ارضی سالمیت اور عوام کے دفاع کے مسلمہ ذاتی حق کے منافی نہیں ہے۔