12 ممالک سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستوں کے مخالف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان اختلاف ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: اطلاعات کے مطابق 12 ممالک پر مشتمل "یونائٹنگ فار کنسینسس" (یو ایف سی) گروپ نے نئی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے اور طویل مدتی گردشی نشستیں متعارف کرانے کی حمایت کی ہے۔
مذکورہ گروپ نے یہ موقف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے دوران جاری مشترکہ بیان میں پیش کیا۔ اس گروپ میں ارجنٹینا، کینیڈا، کولمبیا، کوسٹاریکا، اٹلی، مالٹا، میکسیکو، پاکستان، جنوبی کوریا، سان مارینو، اسپین اور ترکی شامل ہیں۔
یو ایف سی نے خاص طور پر سلامتی کونسل کی منتخب رکنیت بڑھانے کی حمایت کی اور کہا کہ اس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام میں مدد ملے گی اور تمام رکن ممالک کی خودمختار مساوات کے اصول کو برقرار رکھا جاسکے گا۔ گروپ کے مطابق اس طریقے سے افریقہ کی تاریخی طور پر کم نمائندگی کے مسئلے کے ساتھ ساتھ ایشیا بحرالکاہل، لاطینی امریکہ اور کیریبین جیسے خطوں کی نمائندگی بھی بہتر ہوسکتی ہے تاہم گروپ نے نئی مستقل نشستوں کی تجویز کو واضح طور پر مسترد کردیا۔
دوسری جانب ہندوستان، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل جی 4 گروپ کا موقف اس سے مختلف ہے۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے 22 ستمبر کو نیویارک میں ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل، دونوں اقسام کی رکنیت میں توسیع کی حمایت کی۔ جی 4 نے کہا کہ موجودہ سلامتی کونسل کی ساخت تقریباً 8 دہائیاں پرانی ہے اور موجودہ عالمی حالات کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔
جی 4 نے افریقہ کو بھی مستقل رکنیت سمیت زیادہ نمائندگی دینے کی حمایت کی ہے۔ چاروں ممالک نے افریقی گروپ کی اصلاحاتی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی نمائندگی میں اضافہ سلامتی کونسل کی اصلاح کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ سلامتی کونسل اس وقت 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 5 مستقل ارکان، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ ان پانچوں ممالک کے پاس ویٹو کا اختیار ہے، جبکہ باقی 10 ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے 2 سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel