کیا ہندوستانی وزیر خارجہ نے ڈھاکہ میں کوئی خفیہ میٹنگ کی تھی؟
ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر حال ہی میں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ گئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ کیا انہوں نے وہاں کوئی خفیہ میٹنگ کی تھی؟
سحرنیوز/عالم اسلام: اطلاعات کے مطابق ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر ابھی حال ہی میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے ڈھاکہ گئے تھے۔ اس دورے کے بعد سے ہی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ کیا کشیدگی کے ماحول میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوئی خفیہ میٹنگ ہوئی ہے؟ آیا پردے کے پیچھے "خفیہ ملاقاتیں" یا خفیہ سفارتی بات چیت ہوئی ہے؟
میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اب بنگلہ دیش کی یونس حکومت کے خارجہ امور کے مشیر محمد توحید حسین نے اس سسپنس سے پردہ اٹھایا اور قیاس آرائیوں کو ختم کردیا ہے۔
محمد توحید حسین نے ڈھاکہ میں وزارت خارجہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہوں نے یا کسی دوسرے سرکاری نمائندے نے ایس جے شنکر کے ساتھ "نجی ملاقات" کی ہے یا ون ٹو ون بات چیت ہوئی ہے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ توحید حسین نے کہا، "نجی یا خفیہ ملاقات کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ون آن ون بات چیت کا بھی کوئی موقع نہیں تھا۔ ایس جے شنکر کا شیڈول بہت مختصر تھا۔ وہ آئے، پورے پروگرام میں شریک ہوئے، پھر چلے گئے۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ملاقات خالصتاً رسمی تھی۔ توحید حسین نے کہا کہ دیگر غیر ملکی مہمان بھی موجود تھے، ہماری گفتگو مختصر اور سب کے سامنے تھی، اس لیے دو طرفہ مسائل یا کسی سیاسی ایجنڈے پر بات کرنے کا موقع نہیں تھا۔ توحید حسین نے اس دورے کو کسی خاص سیاسی نظر سے نہ دیکھے جانے کی اپیل کی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ایک تعزیتی ملاقات تھی، پاکستانی اسپیکر بھی وہاں موجود تھے۔ جے شنکر نے بھی ان سے ہاتھ ملایا۔ یہ ہر سفارت کار اور لیڈر کی طرف سے اپنائے جانے والے اخلاق و آداب ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھنا چاہیے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مشیر برائے خارجہ امور نے میڈیا اور تجزیہ کاروں پر زور دیا کہ وہ اس دورے میں کوئی گہرا سیاسی مطلب تلاش نہ کریں۔ انہوں نے خالدہ ضیا کے تئیں احترام کے اظہار کو ہندوستان کی طرف سے ایک اچھی علامت قرار دیا۔
ایس جے شنکر کے دورے سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا اس سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان برف پگھلے گی؟ کیا تعلقات میں کشیدگی کم ہوگی؟ اس سلسلے میں توحید حسین نے براہ راست کوئی وعدہ کرنے یا کسی امید کا اظہار کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے محتاط انداز میں کہا، "کیا اس سے کشیدگی کم ہوجائے گی؟ آپ کو مستقبل میں اس کا جواب تلاش کرنا پڑے گا۔"