Jan ۱۳, ۲۰۲۶ ۱۴:۳۷ Asia/Tehran
  • ٹرمپ کا دوغلا پن، تہران اور مینی سوٹا کے مظاہروں پر متضاد نظریہ، بے شرمی کی ایک مثال

الجزیرہ ٹی وی چینل کی ویب سائٹ پر ایران و امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں ٹرمپ کے دوہرے رویہ پر تنقید کی ہے جو دلچسپ ہے۔

سحرنیوز/دنیا: الجزیرہ کی ویب سائٹ نے لکھا ہے: ایران اور امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کے سلسلے میں ٹرمپ کا موقف الگ الگ ہے، وہ ایران میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کرتے ہیں لیکن امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کو پوری طرح سے غیر قانونی قرار دیتے ہيں۔

ٹھیک ہے میرے عزیز، میں تم پر غصے نہیں ہوں'، مینی سوٹا واقعے کی مقتولہ کی آخری ویڈیو‎

الجزیرہ نے لکھا ہے: ٹرمپ ایران کے اندرونی معاملات میں خوب دلچسپی لے رہے ہیں اور مظاہرین کی بھرپور حمایت کر رہے ہيں لیکن دوسری طرف امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور مظاہرین کو تخریب کار کہہ رہے ہيں۔

ٹرمپ نے فلوریڈا میں چھٹیوں سے واپسی کے بعد اپنے ساتھ گئے صحافیوں سے بات چیت میں ، ایران و امریکہ میں ہونے والے مظاہروں پر اظہار خیال کیا ہے تاہم دونوں ملکوں کے مظاہروں اور سیکورٹی اہل کاروں کے بارے میں گفتگو کے وقت ان کا لہجہ بالکل مختلف تھا۔

امریکا کے منی سوٹا صوبے میں پر تشدد مظاہرے 

انہوں نے امریکہ میں ہونے والے مظاہروں کو بد نظمی اور غیر قانونی قرار دیا اور مظاہرین کے ساتھ پولیس کے رویہ کی حمایت کی لیکن ایران میں ہونے والے مظاہروں کو انسانی حقوق کے دائرے میں قرار دیتے ہوئے سیکورٹی اہل کاروں کے رویہ کو استبداد سے تعبیر کیا۔

 

ٹرمپ کی دوغلی پالیسی

الجزیرہ نے لکھا ہے: ٹرمپ ایرانی مظاہرین کو "بہادر" اور "قابل حمایت" قرار دیتے ہيں جبکہ امریکی مظاہرین کو تخریب کار، بلوائی اور نا قابل تحمل قرار دیتے ہيں۔

الجزیرہ نے  لکھا ہے: تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ ، ہر مظاہرے کے بارے میں ایک روش نہيں رکھتے بلکہ اپنی ذاتی خواہش اور ملکی و غیر ملکی پالیسیوں کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔

ٹرمپ ایرانی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ اگر ایران نے مظاہرین کے خلاف تشدد کیا تو واشنگٹن عوام کو بچانے کے لئے آگے آئے گا لیکن اپنے ہی ملک کے مظاہرین کو تخریب کار کہتے ہوئے ان کے خلاف پولیس کے ہر قسم کے رویہ کو گرین سگنل دیتے ہيں۔

امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک مہاجر خاتون کے قتل کے بعد مختلف شہروں میں شروع ہونے والے مظاہروں پر ٹرمپ برہم ہیں اور مہاجر خاتون کا قتل کرنے والے افسر کی بھرپور حمایت کر رہے ہيں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مقتولہ خاتون بلوائی تھی اور وہ پولیس اہل کار کو کچلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس طرح کے الزامات لگا کر انہوں نے اس خاتون کے قتل کا جواز پیش کیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس خاتون کی حرکت کی وجہ سے پولیس کو اپنے دفاع میں فائرنگ کرنا پڑی ۔

الجزیرہ نے آخر میں لکھا ہے: ٹرمپ، مینی سوٹا کے واقعات اور مظاہروں کو امریکہ میں قانونی اداروں کے خلاف وسیع حملوں کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں اور زور دیتے ہيں کہ امریکہ کی فیڈرل پولیس اور امیگریشن اہل کار ، امریکہ کو محفوظ بنائے رکھنے کی کوشش کر رہے ہيں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ، امیگریشن پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ، امن عامہ کے لئے خطرہ پیدا کر رہے ہيں۔

 

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 اسی طرح جب مظاہرین ، امریکہ کے مختلف شہروں میں مہاجروں کی حراست جاری رکھنے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے تو ٹرمپ نے دعوی کیا کہ یہ مظاہرے ، تخریب کاروں یا دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے کئے جا رہے ہيں اور اس کا عوامی حقوق کے تحفظ سے کوئی تعلق نہيں ہے!

 

ٹیگس