ہندوستان: کانگریس کا وزیر اعظم پر زبردست حملہ، ’ٹرمپ سے مودی اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟
وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے سوال کیا کہ ’’آخر خود کا پی آر مینٹین کرنے کے لیے اور ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے مودی ملک کا نقصان کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
سحرنیوز/ہندوستان:’’ہندوستان نے روس سے تیل خریدنا کم کر دیا، کیونکہ مودی مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں اس سے خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش کرنا ضروری ہے۔ اگر میری بات نہیں مانی گئی تو میں بہت جلد ٹیرف بڑھا دوں گا، جس کا انھیں نقصان ہوگا۔‘‘ یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دیا ہے، جس کے بعد کانگریس وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس نے سوال کیا ہے کہ ’’کیا مودی حکومت کی خارجہ پالیسی امریکہ سے طے ہو رہی ہے؟‘‘
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
کانگریس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے مطابق مودی نے روس سے تیل خریدنا اس لیے بند کر دیا، کیونکہ امریکہ نے ہندوستان پر ٹیرف سے دباؤ بنایا۔ اس بیان کو کانگریس نے ہندوستان کی بے عزتی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نریندر مودی کو اس کا جواب دینا چاہیے، ملک کو سچائی بتانی چاہیے۔ ٹرمپ کا بیان سامنے آنے کے بعد کانگریس نے وزیر اعظم مودی کے سامنے کئی تلخ سوالات بھی رکھ دیے ہیں، جو اس طرح ہیں:
کیا مودی حکومت کی خارجہ پالیسی امریکہ سے طے ہو رہی ہے؟
روس سے تیل خریدنا اس لیے بند ہوا کیونکہ ٹرمپ کو خوش کرنا تھا؟
ٹرمپ کبھی جنگ بندی کرانے کی بات کہتے ہیں، کبھی روس سے تیل خریدنے پر روک لگانے کی بات کرتے ہیں... آخر مودی خاموش کیوں ہیں؟
مودی کی کمزوری کا خمیازہ ملک کیوں بھُگت رہا ہے؟
ٹرمپ سے مودی اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟
کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ امریکی سنیٹر لنڈسے گراہم کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں ہندوستان پر بنائے گئے ٹیرف دباؤ کا ذکر کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں لنڈسے گراہم کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’میں ایک ماہ قبل ہندوستانی سفیر کے گھر پر تھا اور وہ صرف اس بارے میں بات کرنا چاہتے تھے کہ ہندوستان کس طرح کم روسی تیل خرید رہا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’وہ (ہندوستانی سفیر) چاہتے تھے کہ میں صدر ٹرمپ کو یہ بتاؤں اور کہوں کہ اب ہندوستان کو ٹیرف میں کچھ چھوٹ دی جائے۔‘‘

امریکی سنیٹر لنڈسے گراہم کے بیان پر کانگریس نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس بیان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے نریندر مودی نے ہمارے سدابہار دوست روس سے تیل خریدنا بند کر دیا۔‘‘ وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے یہ سوال بھی پوچھا کہ ’’آخر خود کا پی آر مینٹین کرنے کے لیے اور ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے مودی ملک کا نقصان کیوں کر رہے ہیں؟‘‘