ٹرمپ کی دھمکیوں اور اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ کے نام ایران کا کھلا خط
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیرسعید ایروانی نے ٹرمپ کی ایران میں کھلے تشدد کو ہوا دینے اور فوجی حملے کی دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
سحرنیوز/دنیا: تفصیلات کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیرسعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے عارضی صدر کے نام باضابطہ خط لکھا اور کہا کہ امریکہ اور اسرائیلی رجیم ایرانی نوجوانوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں جس کے ناقابل انکار ثبوت بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اس خط میں لکھا کہ امریکی صدر پوری بے حیائی کے ساتھ، ایران میں سیاسی عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دینا چاہتے ہیں اور ایران کے اقتدار اعلی، ارضی سالمیت اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے ٹرمپ کے بیان کو اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے گزشتہ چند دن کے دوران امریکی صدر کی مداخلت پسندانہ لفاظیوں میں مسلسل اضافے کو ایران میں تختہ الٹنے کی نیت سے قرار دیا۔
امیرسعید ایروانی نے کہا کہ 12 روزہ جنگ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کو ملنے والی شکست کے بعد، واشنگٹن اور تل ابیب ایران میں خلفشار، اقتصادی مسائل اور سماجی بحران پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تا کہ اپنے زعم میں اس بار اس طرح سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو گرا سکیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کھلے عام تشدد اور ایران کے اندرونی معاملات میں فوجی مداخلت کی دھمکیاں دیتا پھر رہا ہے جس کی مکمل ذمہ داری اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر پر عائد ہوتی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
امیرسعید ایروانی نے زور دیکر کہا کہ یو این سیکریٹری جنرل کو امریکہ کے اس دھمکی آمیز رویے کو روکنے کے لئے ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے اور واشنگٹن کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہر طرح کے فوجی اقدام کے غلط اندازے سے باز رکھنا چاہیے۔