Jan ۱۵, ۲۰۲۶ ۲۰:۳۸ Asia/Tehran
  • ایران کے وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام کھلا خط، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کے قبول نامہ کا کیا ذکر

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام خط میں غاصب صہیونی حکومت کے ایجنٹوں کے ہاتھوں ایران کے پر امن احتجاجی مظاہروں کو کشیدگی اور بلوؤں کی طرف لے جانے کے حوالے سے تہران کے موقع کی وضاحت کی ہے۔

سحرنیوز/ایران:  ایران کے وزیر خارجہ نے پندرہ جنوری جمعرات کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوترش کے نام خط ارسال کیا ہے اور اس کی کاپی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمیشنر اور دنیا کے ملکوں کے وزرائے خارجہ کو بھی ارسال کی ہے۔ وزیر خارجہ عراقچی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ آپ کی توجہ ایران میں آٹھ سے دس جنوری کے دوران پورے ملک میں ایرانی عوام کے خلاف دہشت گرد گروہ داعش جیسے اقدامات اوردہشت گردانہ اور پر تشدد واقعات کی طرف مبزول کرنا چاہتا ہوں۔

اٹھائیس دسمبر دو ہزار چوبیس کو اقتصادی مسائل کے حوالےسے پرامن احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں دہشت گرد عناصر نے داخل ہوکر ان پر امن مظاہروں کو بلوؤں اور جلاؤ گھیراؤ اور مسلحانہ اقدامات میں تبدیل کردیا۔دہشت گرد عناصر نے ان مظاہروں میں گھس کر ایران کے عام عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں اور عام شہریوں کے سر قلم کئے اور بعض اہل کاروں اور عام شہریوں کو زندہ زندہ جلا دیا گیا۔ ان بلوؤں اور تشدد آمیز مظاہروں، جلاؤ گھیراؤ جیسے اقدامات کو دہشت گرد عناصر نے نہایت منظم انداز میں ترتیب دیا تھا۔

وزیر خارجہ عراقچی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ امریکہ کے موجودہ اور سابق حکام نے ان بلوائیوں اور دہشت گرد عناصر کی کھل کر حمایت کی ہے، اس قسم کی حمایت مکمل طور پر بین الاقوامی حقوق کو پاؤں تلے رودھنے اور ملکوں کے عالمی کنوینشنوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور آزاد و خود مختار ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کے مترادف ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کے اس خط میں آیا ہے کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بلوائیوں اور پرتشدد کاروائیاں کرنے والوں کے درمیان غاصب صہیونی حکومت کی جاسوسی کی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ بھی شامل ہیں۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

وزیر خارجہ عراقچی نے مزید کہا کہ بارہ جنوری کو ایران کے عوام نے قومی یکجہتی کے عنوان سے بھر ملک میں میلین مارچ میں شرکت کر کے اغیار کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور یہ ثابت کردیا کہ ایران کے عوام متحدہ اور اسلامی جمہوری نظام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

 

ٹیگس