ایران کے سامنے ٹرمپ کی بے بسی: واشنگٹن پوسٹ
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران سے مقابلے میں امریکی صدر ٹرمپ بے بس نظر آ رہے ہیں۔
سحرنیوز/دنیا: امریکی اخبارات نے لکھا ہے کہ ایک وسیع جنگ کے غیر متوقع نتائج سے تشویش اور علاقائی اتحادیوں کے دباؤ کی وجہ سے امریکی صدر ٹرمپ ایران کے سامنے بے بس ہیں۔
اسنا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبارات و رسائل نے لکھا کہ پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ مغربی ایشیا کے ایک بڑے علاقے اور خود امریکی حکام کو یقین ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک نئی کشیدگی شروع کرنے والے ہیں لیکن بالآخر ٹرمپ نے حملہ کرنے سے گریز کیا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے نزدیکی افراد میں نائب صدر جے ڈی وینس حملے کے حق میں تھے جبکہ مشرق وسطیٰ کے لئےامریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور وزیر خزانہ کا احتیاط برتنے کا مشورہ تھا۔
واشنگٹن پوسٹ نے حملے پر مبنی ٹرمپ کے فیصلے میں پسپائی کی وجوہات کے بارے میں لکھا ہے کہ پینٹاگون کو تشویش تھی کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پاس ایران کے بڑے حملے کو ناکام بنانے کے لئے مطلوبہ معیار سے کم توانائی ہے۔ ادھر سعودی عرب، قطر، مصر اور صیہونی حکومت سمیت علاقے کے اہم امریکی اتحادیوں نے ٹرمپ کو کسی بھی حملے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ذاتی طور پر اس سلسلے میں ٹرمپ سے رابطہ کیا اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انہیں ایرانی جوابی کارروائی کی طرف سے تشویش تھی جبکہ صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کی جوابی کارروائی کا سامنا کرنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہے۔
ایک امریکی اعلیٰ عہدیدار نے بھی اس سلسلے میں کہا کہ علاقے میں امریکہ کی مطلوبہ فوجی موجودگی نہیں ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ بھی اس طرف متوجہ ہوگئے کہ ایران پر حملہ کرنے کے نتیجے میں علاقے میں امریکہ کے 30 ہزار فوجیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور وسیع جنگ اور اقتصادی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک قریبی شخص نے بھی کہا کہ کیا ایک حملہ حکومت بدل سکتا ہے؟ اس کا سیدھا سیدھا جواب ہے "نہیں۔"
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ "ان کے پاس ٹرمپ کے لئے کیا پیغام ہے؟" کہا کہ "جو غلطی جون (2025) میں کی اس کو نہ دوہرائیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر ایک ناکامی سے بھرے تجربے کو دوہرائیں گے تو دوبارہ وہی نتیجہ حاصل ہوگا۔ آپ نے مشینری اور تنصیبات کو تباہ کردیا لیکن ٹیکنالوجی اور عزم و ارادے کو بمباری سے تباہ نہیں کرسکتے۔"