ایران پر حملوں میں سات اہم جوہری ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی: روس
جنیوا (سحر ٹی وی نیوز) ویانا میں مقیم بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے سفیر اور مستقل نمائندے نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے مشترکہ حملوں میں ایٹمی تحفظ اور سلامتی سے متعلق سات اہم ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
سحرنیوز/دنیا: روسی مندوب میخائل الیانوف نے ایکس پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے پیغام کو دوبارہ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملہ ناقابل قبول اور انتہائی خطرناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی تنازعات کے دوران جوہری تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے سات اہم ضابطوں جن کا اعلان 2 مارچ 2022 کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے کیا تھا، جون 2025 اور مارچ 2026 میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے دوارن انجام پانے والی سنگين خلاف ورزی کے نتیجے میں مخدوش ہو گئے ہیں۔
روسی سفارت کار نے امید ظاہر کی کہ ایٹمی تنصیبات پر حملے کے نتائج کے بارے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی وارننگ امریکہ اور اسرائیل میں سنی جائے گی۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے چند گھنٹے قبل ایکس پر ایک پیغام شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ موجودہ حالات اور جاری تنازعات کے تناظر میں، رافیل گروسی نے ایک بار پھر بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حالیہ فوجی حملوں کی رپورٹوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا، جن میں سے آخری حملہ منگل کی شام کو کیا گيا تھا۔
اس پیغام کے مطابق، پاور پلانٹ ایک فعال تنصیب ہے جس میں بڑی مقدار میں جوہری مواد موجود ہے، آئی اے ای اے نے خبردار کیا ہے کہ اسے پہنچنے والا کسی بھی قسم کا نقصان ایک بڑے تابکاری حادثے کا باعث بن سکتا ہے جو ایران اور یہاں تک کہ اس کے ارد گرد کے بڑے علاقوں کو متاثر کرسکتاہے۔
پیغام کے آخر میں کہا گیا ہے کہ گروسی نے ایک بار پھر ایسے حادثے کو روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے اور جوہری تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سات بنیادی اصولوں پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے حالیہ جنگ کے دوران کم سے کم دوبار بوشہر میں و اقع ایران کے واحد ایٹمی بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے تاہم کوئي بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملہ، بین الاقوامی ضابطوں اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کے نتیجے میں خطے بالخصوص خلیج فارس سے متصل ممالک کی سلامتی کے لیے خطرناک اور ناقابل تلافی نتائج ہو سکتے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel