Mar ۰۳, ۲۰۲۶ ۱۶:۰۰ Asia/Tehran
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر آخری دم تک ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے شرعی فتوے پر قائم رہے

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے گئے تھے حالانکہ اس سرزمین کے سپوتوں کے قتل عام کے مناظر ہماری نگاہوں میں بدستور موجود تھے۔

سحرنیوز/ایران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں اس سوال کے جواب میں کہ  ایران میں رائے عامہ کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ مذاکرات جنگ پر کیوں منتج ہوئے؟ کہا کہ "ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے گئے تھے حالانکہ اس سرزمین کے سپوتوں کے قتل عام کے مناظر ہماری نگاہوں میں بدستور موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ کیا اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر نے ایک بار بھی کہا ہے کہ دھمکیوں کے جواب میں وہ پرامن ایٹمی پروگرام کو فوجی مقاصد کی جانب لے جائیں گے؟ انہوں نے شروع سے جوہری ہتھیاروں کے حرام ہونے کے بارے میں اپنے فقہی حکم کا اعلان کیا اور شہادت تک اس پر قائم رہے۔

ارنا کے امور خارجہ کے نامہ نگار کے مطابق، وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج (منگل 3 مارچ ) کو ایران کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی  کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کے چوتھے دن جنگ سے تباہ ہونے والے تہران کے اسکولوں میں سے ایک "محلاتی ایلیمنٹری اسکول" میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

انہوں نے موجودہ صورتحال اور ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران کے عوام کو تہران سے منیاب اور سنندج سے مراغے تک صرف اس لیے، بے بنیاد بہانوں سے ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ وہ اپنی آزادی، عزت، خودمختاری پر سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔ 

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان  نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ رمضان المبارک کی دسویں تاریخ بروز ہفتہ، مذاکرات کے آخری دور کو ایک دن اور ایک رات سے بھی کم کا وقت نہیں گزرا تھا کہ ہمیں ایک بار پھر امریکہ اور صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا، کہا کہ پہلے اہداف کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گيا۔ پہلے ہمارے ملک کے سپریم لیڈر کو ان کے  آفس میں اہل خانہ کے ساتھ نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا پھر میناب میں ہمارے بچیوں کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اور آج ان معصوم فرشتوں کی تدفین کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جرم کو "کولیٹر ڈیمج"  کہہ کر جواز بنانا انتہائی شرمناک  ہے۔

اسماعیل بقائی نے ارنا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہم ایک تہذیب کے محافظ ہیں۔ایک ایسی تہذیب جس نے انسانیت کی خدمت کی ہے اور قدیم ترین انسانی تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ایک عظیم اور عظیم تہذیب۔یہ جنگ تہذیب کے خلاف جنگ ہے۔گہری تاریخی جڑوں والے ملک کے خلاف۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ جھوٹ پر غور کریں اور ان جھوٹی داستانوں کو ہم ایرانیوں کے ذہنوں میں بیٹھنے نہ دیں۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

آئیے ہم اپنے بیانیے پر بھروسہ کریں۔ کیا آپ نے ان سالوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کی طرف سے ایک بھی متضاد موقف پایا ہے؟ کیا اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر  نے ایک بار بھی کہا ہے کہ وہ دھمکیوں کے جواب میں پرامن پروگرام کو فوجی مقاصد کی جانب  لے جائیں گے؟ انہوں نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی حرمت کے بارے میں شروع سے ہی اپنا مذہبی نظریہ بیان کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔

ٹیگس